دریائے سندھ سے نہرے نکالنے کے خلاف دھرنا جاری، پنجاب سے رابطہ منقطع

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے صوبہ سندھ میں صوبہ پنجاب کے لئے دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کے وفاقی منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

سکھر کے قریب ببرلوء کے مقام پر سندھ کے وکیلوں نے دھرنا دے کر پنجاب کی شاہراہ تین دن سے مکمل بند کردی ہیں جہاں پر سندھ کے قوم بپرست جماعتوں کے کارکنان اور وکلاء کی بڑی تعداد شامل ہوئی ہے۔

سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے، شٹر ڈاؤن ہڑتالیں اور دھرنے جاری ہیں، خیرپور میں وکلا کا تین روز سے دھرنا جاری ہے، جس کے باعث سندھ سے پنجاب جانے والی ٹریفک معطل ہے قوم پرست جماعتوں نے ریلوے ٹریک پر دھرنا دے کر اپ اور ڈاؤن ٹریکس کو بند کردیا ہے ۔

سندھ کے قوم پرست قیادت سید زین شاہ، اسلم خیرپوری ،ثنان خان قریشی، ریاض چانڈیو ،انعام سندھی ہزاوں کارکنان کے ساتھ وکلاء کے سمیت عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد دھرنے میں شریک ہے۔

قوم پرست جماعتیں، وکلا، کسان، ادیب اور سول سوسائٹی کے اراکین اس منصوبے کو سندھ کے آبی وسائل پر قبضے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

سندھ کے قومی تحریک اور وکلاء نے 6کینال بنانے کا فیصلہ واپس کرنے تک تک دہرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

سندھ کے قومی تحریک کی سیاسی جماعتوں اورسیاسی سماجی تنظیموں اور وکلا تنظیموں کے مشترکہ دھرنے سے سندھ سے پنجاب کی تمام شاہراہیں بلاک ہیں ۔

آج جیئےسندہ قومی محاذ (جسقم) کی طرف سے سندھ بھر میں شٹربند اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی ہے ۔

کامیاب ہڑتال سے سندھ کے چھوٹے بڑے تمام شہر وقصبے بند رہے ۔

سندھ سے پنجاب کی تمام شاہراہیں بلاک ہونے کی وجہ سے پنجاب کی رسد مکمل بند ہے اورپنجاب میں پیٹرول ڈیزل کی شدید کلت پیدا ہوگئی ہے۔

کہا جار ہا ہے کہ دھرنے کی وجہ سے پنجاب کو سخت پریشانی کا سامناہے اور جس کی وجہ سے ریاستی ادارے مختلف طریقوں سے دھرنے کے شرکا کو دھمکا رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دھرنا شرکا کو ڈرانے کیلئے آج صبح سویرے ریاستی اداروں کے اہلکاروں نےتین ویگو گاڑیوں میں آکر شرکا پر فائرنگ کی اور عوامی مزاحمت پر وہاں سے بھاگ گئے ۔

وفاقی حکومت کا 720 ملین ڈالر کا منصوبہ “گرین پاکستان” کے تحت فوجی زیر انتظام زرعی کمپنی کے لیے چولستان کے صحرائی علاقوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کا ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ سندھ کے پانی کے حقوق کو پامال کرتا ہے اور صوبے کی زراعت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) نے منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو وہ حکومت سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ بجٹ سے قبل منصوبے کو مسترد کر دیا جائے گا۔

Share This Article