بلوچستان میں اصل چیلنج عسکریت پسند نہیں ،پنجابی دانشوروں کی بیانیہ ہے،سرفراز بگٹی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستں کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نےکہا ہے کہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں سے فورسز نمٹ لیں گی، ہمارے لیے اصل چیلنج علیحدگی پسند نہیں بلکہ بیانیہ ہے۔

گذشتہ روزلاہور میں میر خلیل الرحمان میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب میں سرفراز بگٹی نےکہا کہ عسکریت پسندوں سے ہماری فورسز نمٹ لیں گی، یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، ناراض بلوچ کی اصطلاح ہماری نہیں پنجاب کے کنفیوز دانشوروں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند انتشار اور فساد پھیلانا چاہتے ہیں، اسلام کا ٹی ٹی پی سے اور ٹی ٹی پی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، اُن خواتین کے ساتھ کھڑا ہوں جن کے بیٹوں اور شوہروں کو بسوں سے اتار کر مارا گیا، انسانی حقوق کے لبادے میں مخصوص ایجنڈے پر چلنے والی خاتون کے ساتھ کھڑا نہیں ہوں گا۔

سرفراز بگٹی نےکہا کہ عسکریت پسندوں کو جب بھی موقع دیا جائےگا وہ دوبارہ منظم ہوجائیں گے، وہ پاکستان کو بندوق کے زور پر توڑنا چاہتے ہیں، لڑائی ریاست نے نہیں انہوں نے شروع کی تھی، بلوچستان مسئلے کا حل نوجوان نسل کو وسائل مہیا کرنا ہے، ہم نوجوانوں کو میرٹ پر نوکریاں فراہم کر رہے ہیں۔

بعد ازاں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی سرکوبی کی بات دل سےکی ہے، بلوچستان میں دو یا تین فیصد ملک توڑنا چاہتے ہیں جو ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں، انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کی ضرورت ہے اور وہ جاری ہے۔

Share This Article