بلوچستان میں ایک صحافی کو قتل کی دھمکیاں، دوسرے لاپتہ کو رہا کردیا گیا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ساحلی شہر و سی پیک مرکز گوادر میں ایک صحافی کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں جبکہ بارکھان سے پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ صحافی بازیاب ہوگیا۔

گوادر “گوادر ءِ توار” نامی سوشل میڈیا نیوز پیج کے ایڈمن اور صحافی جاوید ایم بی کو گزشتہ رات نامعلوم نمبروں سے فون کالز اور پیغامات کے ذریعے قتل کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔

گوادر کے ایک اور صحافی عین قادر نے سوشل میڈیا پر دھمکی آمیز پیغام کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔

ان کے مطابق جاوید ایم بی کو پہلے ایک مختصر دھمکی آمیز پیغام ملا جس کے بعد فون کال کے ذریعے ایک مخصوص خبر کی اشاعت پر سنگین نتائج کی وارننگ دی گئی۔

کالر نے واضح الفاظ میں صحافی کو کفن تیار رکھنے کا اشارہ دیا۔

جاوید ایم بی نے دھمکیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں طویل عرصے سے صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے پر دباؤ کا سامنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی دھمکیاں صحافیوں کی آزادی اور اظہارِ رائے پر کھلا حملہ ہیں۔

صحافیوں سول سوسائٹی اور شہری حلقوں نے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب ضلع بارکھان سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی آصف کریم کھیتران جبری گمشدگی کے بعد آج بازیاب ہوگئے ہیں۔

انکی بازیابی کی تصدیق انہوں نے خود اپنے آفیشل ایکس آکاؤنٹ پر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ واپس آگئے ہیں۔

آصف کریم کھیتران بارکھان کے پریس کلب سے منسلک مقامی صحافی ہیں، بلوچستان سے سیاسی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے انکی جبری گمشدگی کی تصدیق کی تھی۔

انھیں گذشتہ ماہ پندرہ مارچ کو بارکھان سے لاپتہ کہا گیا تھا جبکہ انکی جبری گمشدگی سے قبل حکام نے انکے دکان کو بھی سیل کردیا تھا۔

صحافی کی جبری گمشدگی کے حوالے سے اسلام آباد سے انسانی حقوق کے کارکن و بلوچ جبری لاپتہ افراد کی وکیل ایمان مزاری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔

ایمان مزاری کے مطابق صحافی نے انھیں 2024 سے فوج کے مختلف آفسران سے آگاہ کیا تھا جو اسے دھمکیاں دے رہے تھے وہ اسے فوج کے کیمپ میں بلاتے رہے اور غائب کرنے سے پہلے اس کے خاندان کے دیگر افراد کو اغوا کرتے رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے تنظیموں نے آصف کریم کھیتران کی جبری گمشدگی کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر انکی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا، جو آج بازیاب ہو گئے ہیں۔

Share This Article