ایرانی تیل کی تجارت میں ملوث انڈین شہری و چینی ٹرمینل پر امریکا نے پابندیاں عائد کردیں

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکہ نے ایران سے براہ راست مذاکرات سے قبل اس کے تیل کے تجارتی نیٹ ورک پر نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ایک اعلان کے مطابق چین میں قائم خام تیل کے سٹوریج ٹرمینل کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں مقیم انڈیا شہری جگویندر سنگھ برار پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ جگویندر سنگھ برار ان شپنگ کمپنیوں کے مالک ہیں جن کے بحری بیڑے میں قریب 30 جہاز شامل ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ ’برار کے جہاز عراق، ایران، متحدہ عرب امارات اور خلیج عمان کے پانیوں میں پیٹرولیم کے خطرناک شپ ٹو شپ ٹرانسفر میں ملوث ہیں۔‘

ان پابندیوں میں متحدہ عرب امارات اور انڈیا کی دو، دو کمپنیاں شامل ہیں جو مبینہ طور پر نیشنل ایرانی آئل کمپنی اور ایرانی فوج کے لیے ایرانی تیل ٹرانسپورٹ کرتی ہیں۔

بیان کے مطابق ’ایرانی رجیم برار ان کی کمپنیوں جیسے شپرز اور بروکر پر انحصار کرتی ہیں تاکہ تیل بیچ سکے اور اپنے غیر مستحکم کرنے والی سرگرمیوں کی مالی اعانت کر سکے۔‘

ان پابندیوں کے ذریعے ان کمپنیوں کے امریکہ میں موجود اثاثے اور کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ عمان میں سنیچر کو امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات شروع ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو ایران ’بڑے خطرے میں‘ پڑ سکتا ہے۔

امریکہ نے ایک چینی کمپنی پر بھی پابندی کی ہے جو ایرانی تیل کی تجارت کرتی ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ کے سیکریٹری سکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ ’امریکہ ایرانی تیل کی برآمد کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، خاص کر وہ عناصر جو اس تجارت سے منافع کماتے ہیں۔‘

ان کے مطابق اس چینی ٹرمینل نے 2021 سے 2025 کے دوران کم از کم نو بار ایرانی خام تیل حاصل کیا اور اس کے لیے وہ بحری جہاز بھی استعمال کیے گئے جن پر امریکہ نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس ٹرمینل نے کم از کم ایک کروڑ 30 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل برآمد کیا۔‘

چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے اور یہ امریکی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ چین اور ایران نے تیل کی تجارت کا ایسا نیٹ ورک تشکیل دیا ہے جو چینی کرنسی یوآن پر منحصر ہے اور اس میں امریکی سختیوں سے بچنے کے لیے بروکر استعمال کیے جاتے ہیں۔

چین نے تاحال ان پابندیوں پر تبصرہ نہیں کیا تاہم گذشتہ ماہ ایک ریفائنری پر پابندی کے بعد واشنگٹن میں چینی سفارتخانے نے کہا تھا کہ چین اِن غیر قانونی اور غیر منصفانہ پابندیوں کے سخت خلاف ہے۔

Share This Article