بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنما بیبو بلوچ کے ایگزٹ کنٹرول لسٹ کے بابت آج کیس کی سماعت ہوئی جس میں ایف آئی آر کو خارج کردیا گیا ۔
ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر کے مطابق اب ای سی ایل کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے۔
بلوچستان ہائیکورٹ میں آج ہونے والے سماعت میں بلوچستان حکومت نے رپورٹ پیش کردی۔
بیبو بلوچ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل کیے جانے کے حوالے سے آج بلوچستان ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔
جس کی صدارت جسٹس کامران ملا خیل اور جسٹس نجم الدین مینگل نے کی۔
عدالت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بلوچستان حکومت نے اپنا جواب جمع کروایا اور تصدیق کی کہ وہ ایف آئی آر، جسے بیبو بلوچ کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی بنیاد بنایا گیا تھا، حکومت کی جانب سے اگست میں واپس لے لی گئی ہے۔ لہٰذا اب بیبو بلوچ کا نام ای سی ایل میں شامل رکھنے کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا۔
اس پر جسٹس کامران ملاخیل نے بلوچستان حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اپنی رپورٹ پندرہ دن کے اندر وفاقی حکومت کو بھجوائے اور ای سی ایل قانون کی دفعہ 3 کے تحت زیر غور بیبو بلوچ کی اپیل پر فیصلہ کرے۔ اگر کوئی فیصلہ نہ ہو تو دوبارہ عدالت سے رجوع کیا جائے۔
معروف انسانی حقوق کی رہنما ایڈوکیٹ جلیلہ حیدر نے کہا ہے کہ یہاں یہ ذکر کرنا اہم ہے کہ اب بیبو بلوچ کا نام ای سی ایل میں شامل رکھنے کی کوئی قانونی وجہ موجود نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کے نمائندے نے بھی اس معاملے میں تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
انہوں نے کہا ہم امید کرتے ہیں کہ بلوچستان حکومت معزز عدالت کے حکم کا احترام کرتے ہوئے محترمہ بیبو بلوچ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دے گی۔