چین کی وزارتِ خزانہ نے امریکہ سے درآمد ہونے والی تمام اشیا پر 84 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چین کی وزارت حزانہ کے مطابق ان نئے محصولات کا اطلاق 10 اپریل سے ہو گا۔
چین کی جانب سے امریکہ پر 84 فیصد ٹیرف کے اعلان کے بعد پہلے سے گراوٹ کا شکار ہونے والی یورپی کمپنیاں مزید نیچے چلی گئی ہیں۔
دوسری جانب چین کے امریکی درآمدات پر 84 فیصد محصول عائد کرنے کے اعلان کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے در عمل میں کاروباری اداروں کو ترغیب دی ہے کہ یہ امریکہ منتقل ہونے کا درست وقت ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھتے ہوئے کہا کہ ’یہ آپ کی کمپنی کے لیے امریکہ میں منتقل کرنے کا بہترین وقت ہے۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’زیرو ٹیرف اور تقریباً فوری طور پر الیکٹریسٹی یا انرجی کے کنکشنز اور منظوری، جہاں نہ ماحولیات کے باعث تاخیر نہ انتظار۔ پھر دیر نہ کریں۔ ‘
چین کی وزارتِ خزانہ کے حالیہ اعلان کے مطابق امریکہ سے آنے والی تمام اشیا پر 34 فیصد سے بڑھا کر 84 فیصد ٹیرف کا اطلاق کیا گیا ہے۔
یقیناً یہ ہر اس امریکی کمپنی کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے جو اس وسیع منڈی میں سامان فروخت کرنا چاہتے ہیں اور بلاشبہ یہ خبر منڈیوں میں مزید ہلچل پیدا کرے گی اور خاص طور پر امریکہ میں۔
ممکن ہے بیجنگ کی جانب سے مزید اقدامات بھی سامنے آئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکومت پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
بیجنگ پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی اشیا پر امریکی ٹیرف کو 104 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ پایہ تکمیل تک پہنچایا تو چین سخت جوابی اقدامات کرے گا اور اب ہم اس ردِعمل کی شروعات دیکھ رہے ہیں۔
چین میں ریاستی میڈیا کے رپورٹرکو سوشل میڈیا پر ان ممالک کا مضحکہ اڑاتے دیکھا جا رہا ہے جو واشنگٹن سے ٹیرف ختم کرنے کی التجا کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ سب ٹرمپ کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔
اس کے برعکس بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ کثیرالجہتی تجارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ جہاں قوانین سب پر یکساں لاگو ہوتے ہوں۔
اس موقف پر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک مثلا تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور ویتنام کی حمایت مل سکتی ہے جنھیں امریکی ٹیرف کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔