بلوچستان وپاکستان میں افغان شہریوں کی ملک سے بے دخلی کے لیے ملک گیر کارروائیاں جاری ہیں۔
حکومتی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد بلوچستان کے چمن ودیگر جبکہ پاکستان کے اسلام آباد اور راولپنڈی میں افغان شہریوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی گئی ہیں۔
بلوچستان کے علاقے چمن میں پاکستانی حکومت کے احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے افغان مہاجرین کے خلاف بھرپور کریک ڈان کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر امتیاز علی بلوچ کی نگرانی میں رسالدار حاجی عبدالجبار کی سربراہی میں نائب رسالدار عبدالصادق اور دفعدار محمد شفیق نے لیویز فورس کے ہمراہ مختلف علاقوں میں تابڑ توڑ کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
شہر کے حساس مقامات، جن میں رحمان کہول روڈ، شین تالاب، بائی پاس اور دیگر علاقوں میں سخت چیکنگ جاری ہے۔
لیویز فورس نے گھروں، دکانوں، بازاروں اور ناکہ جات پر مشتبہ افراد کے شناختی کارڈ چیک کرنا شروع کر دیئے ہیں، جس سے افغان مہاجرین میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
ضلع انتظامیہ نے تمام غیر قانونی افغان مہاجرین کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی رضامندی سے پاکستان چھوڑ کر باعزت طریقے سے افغانستان چلے جائیں، ورنہ سخت قانونی کارروائی کے لئے تیار رہیں۔
اس اچانک آپریشن سے شہر میں سنسنی پھیل گئی ہے جبکہ مہاجرین میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی اور غیر قانونی طور پر مقیم کسی بھی افغان شہری کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
افغان مہاجرین کی بے دخلی کے معاملے پر مختلف حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری ہیں۔
ادھر اسلام آباد اور راولپنڈی کے مقامی پولیس کے مطابق افغان سٹیزن کارڈ کے حامل افراد کی گرفتاریاں شروع کردی گئی ہیں اور 50 سے زائد افغان شہریوں کو رفیوجی کیمپ منتقل کر دیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے خاندانوں کو بھی تحویل میں لے کر کیمپ منتقل کیا جائے گا۔ اس کارڈ کے حامل افراد کو کیمپ سے افغانستان بھجوایا جائے گا۔
حکام کے مطابق جڑواں شہروں کی پولیس کا مختلف علاقوں میں آپریشن جاری ہے اور یہ روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین کے انخلا کی 31 مارچ 2025 کی ڈیڈلائن ختم ہو چکی ہے اور یکم اپریل سے ان کی بےدخلی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر 21 لاکھ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں۔
محکمہ داخلہ و قبائلی امور خیبرپختونخوا کے گزشتہ روز جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کے روز طورخم کے راستے مزید 40 افراد افغان سیٹزن کارڈ کے حامل پناہ گزین واپس بھیجے گئے۔
اعلامیے کے مطابق مجموعی طور پر 193 افراد افغان سیٹزن کارڈ کے حامل پناہ گزین بھیجے گئے جبکہ مجموعی طور پر 4 لاکھ، 70 ہزار، 722 تارکین وطن کو بھی طورخم سرحد سے افغانستان بھیجوایا گیا ہے۔
مجموعی طور پر پختونخوا سے 8953،اسلام آباد سے 1561 ، پنجاب سے 1309 ، آزاد کشمیر سے 38 اور سندھ سے 44 تارکین وطن کو افغانستان بھجوایا گیا ہے۔ پشاور، خیبر پختونخوا سے مجموعی طور پر اب تک 4اکھ، 77 ہزار، 434 افراد کو افغانستان بھیجوایا گیا ہے۔
دوسری جانب ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید نے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے اسفندیار خٹک اور ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ریٹائرڈ) بلال شاہد راؤ کے ہمراہ لنڈی کوتل میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی باعزت واپسی کے لیے لگائے گئے ہولڈنگ کیمپ کا دورہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق اس حوالے سے ایڈیشنل ڈی سی (ریلیف) کے ہمراہ پی ڈی ایم اے، ایف آئی اے، نادرا اور دیگر افسران نے انتظامات کا جائزہ لیا۔
اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ نے لنڈی کوتل میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے لیے کیے گئے انتظامات، محکمہ صحت کے عملے سمیت ریسکیو 1122 کی تعیناتی، واپس آنے والے خاندانوں کی واپسی کے طریقہ کار سمیت متعلقہ سہولیات کا جائزہ لیا۔
حکام کے مطابق ملک بھر سے افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز اور غیر قانونی تارکین لنڈی کوتل میں بنیادی سہولیات سے آراستہ کیمپ کے انعقاد کے ذریعے طورخم افغانستان جائیں گے۔
واپسی کے عمل کی نگرانی کے لیے انعقاد کیمپ میں ضلعی انتظامیہ، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، نادرا، ایف آئی اے ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر محکموں کے افسران اور عملہ تعینات کیا جائے گا۔