امریکی ٹیرف ،امریکہ اور دنیا کے لیے گیم چینجر قرار، آسٹریلیا و چین کی مخالفت

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعدد ممالک سے امریکہ میں درآمد ہونے والی اشیا پر نئے ٹیرف (ٹیکس) کے نفاذ کا اعلان کےآسٹریلیا اور چین نے اس کی مخالفت کی جبکہ امریکہ میں اکنامک ریسرچ ایجنسی فچ ریٹنگ نے اسے ایک گیم چینجر قرار دیا ہے۔

چینی حکام اور ملکی میڈیا نے ٹرمپ کی جانب سے مزید ٹیرف کے اعلان کی مذمت کی ہے۔

گلوبل ٹائمز نے اپنے ایک تجزیے میں امریکی صدر کے اعلان کو ٹیرف ’بلیک میلنگ‘ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب چینی وزارت برائے کامرس نے امریکی ٹیرف کی مذمت کی ہے اور جوابی اقدامات کا کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

چینی وزارت کا کہنا ہے کہ ماضی میں یہ ثابت ہوا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے نے اس کے اپنے مسائل کو حل نہیں کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ امریکی مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس کے علاوہ یہ عالمی تجارت، اقتصادی ترقی اور ترسیلات کے کے لیے خطرہ ہے۔

دوسری جانب چینی سفیر نے امریکہ کی جانب سے ٹیرف لسٹ میں تائیوان کو الگ ملک کہنے کا معاملے پر امریکہ سے بات کی۔

سماجی راطبوں کی ویب سائٹ پر امریکہ نے کہا کہ تائیوان چین کا تائیوان ہے۔ ہم کسی بھی صورت میں آزاد تائیوان کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ۔

اسی طرح آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلان پر کہا ہے کہ اس کی منطق میں کوئی بنیاد نہیں ہے‘ اور یہ ’مکمل طور پر غیر ضروری‘ ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ کسی دوست کا کام نہیں ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ اور آسٹریلیا دونوں ممالک کے درمیان ایک آزاد تجارتی معاہدہ ہے۔ لیکن ٹرمپ نے نئے محصولات کو غیر ٹیرف تجارتی رکاوٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جائز قرار دیا ہے۔ جیسا کہ آسٹریلیا کے بائیو سکیورٹی رولز کے مطابق امریکہ سے تامہ گوشت درآمد نہیں کیا جا سکتا۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا محصولات کے ساتھ جوابی کارروائی نہیں کرے گا اور اس کے بجائے مذاکرات کی میز پرآنے کی خواہش رکھتا ہے۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ امریکہ نے آسٹریلیا کے سٹیل اور ایلومینیم پر 25 فیصد ٹیرف لگایا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے نیا عائد کیا جانے والا ٹیرف لگ بھگ 100 ممالک کو متاثر کرے گا ان میں سے 60 وہ ممالک ہیں جو کہ درآمدات پر زیادہ ٹیکس کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس حکم کا اطلاق بدھ سے ہو رہا ہے۔

امریکی صدر نے برطانیہ پر 10 فیصد جب یورپی یونین میں شامل ممالک پر 20 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے غیر ملکی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔

امریکہ میں اکنامک ریسرچ ایجنسی فچ ریٹنگ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ٹیرف نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے ممالک میں اس کے نتیجے میں کساد بازاری میں اضافہ ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلان کے بعد عالمی سٹاک مارکیٹس میں مندی کا رحجان دکھائی دے رہا ہے۔

مارکیٹ کی مندی دراصل میں رمایہ کاروں کا ٹرمپ کے نئے اعلانات پر ردعمل ہے۔

عالمی تجارتی جنگ کے خطرات کی وجہ سے جمعرات کو ایشیائی سٹاک مارکیٹس میں میجر انڈیکسز میں مندی کا رحجان ریکاڈ کیا گیا۔

ہانگ کانگ کا ہانگ سنگ ایک اعشاریہ دو فیصد مندی کا شکار ہوا۔

شنگھائی میں انڈیکس میں مندی ریکارڈ کی گئی۔

ٹوکیو می نکئی 225 پوائنٹس کے ستھ ڈاؤن تھی وپاں انڈیکس 200 پوائنٹس پر تھا جب کہ دو اعشاریہ دو فیصد کم ہے۔ جنوبی کاریا کا کوسپی ایک اعشایہ سات فیصد گراوٹ کا شکار تھا جبکہ آسٹریلیا میں مارکیٹ ایک اعشاریہ دو فیصد مندی کا شکار رہی۔

اپنی تقریر کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ ہاتھ میں ایک چارٹ بورڈ بھی تھامے ہوئے نظر آئے تھے جس پر ایشیائی ممالک سے امریکہ میں درآمد کی جانے والی اشیا پر عائد کیے جانے والے نئے ٹیرف (ٹیکس) کی تفصیلات درج تھیں۔

کس ملک پر کتنا ٹیرف عائد کیا گیا ہے؟

  • چین پر 34 فیصد
  • ویتنام پر 46 فیصد
  • تائیوان پر 32 فیصد
  • جاپان پر 24 فیصد
  • انڈیا پر 26 فیصد
  • جنوبی کوریا پر 25 فیصد
  • تھائی لینڈ پر 36 فیصد
  • ملیشیا پر 24 فیصد
  • کمبوڈیا پر 49 فیصد
  • بنگلہ دیش پر 37 فیصد
  • سنگاپور پر 10 فیصد
  • فلپائنز پر 17 فیصد
  • پاکستان پر 29 فیصد
  • سری لنکا پر 44 فیصد
  • میانمار پر 44 فیصد

اس کے علاوہ امریکی صدر نے یورپی یونین کے ممالک پر 20 فیصد، کوسووہ پر 10 فیصد، سوئٹزرلینڈ پر 31 فیصد، برطانیہ پر 10 فیصد، ناروے پر 15 فیصد، یوکرین پر 10 فیصد اور سربیا پر 37 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Share This Article