اسلام آباد سے صحافی کی اغوا نما گرفتاری ،بی ایل اے کی حمایت کا الزام

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد سے پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ہاتھوں سعودی عرب کے میڈیا سے منسلک ایک سینئر صحافی وحید مراد کی اغوا نماگرفتاری کے بعدانہیں دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا ہے ۔

اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے صحافی وحید مراد کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے۔

وحید مراد کے خلاف ایف ائی اے کے سائبر کرائم ونگ میں 2016 کے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

صحافی پر الزام عا ئد کیا گیا ہے کہ اس نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں فوج کا کنٹرول نہیں ہے ۔

اس پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے بی ایل اے کی پوسٹ شیئر کرکے اس کو پروموٹ کیا ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وحید مراد نے 18 مارچ کو احمد نورانی کی فیکٹ فوکس کی خبر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر آرمی چیف کے خاندان کی تصاویر کے ساتھ شیئر کیا اور اس پر انتہائی اشتعال انگیز تبصرے بھی کیے۔

اس ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وحید مراد نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بہت اشتعال انگیز مواد شیئر کیا ہے، جس کے بعد سائبر کرائم نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے رات دو بج کر پانچ منٹ پر انھیں ان کے جی ایٹ میں واقع گھر سے گرفتار کیا ہے۔

ایف آئی آر میں سردار اختر مینگل کی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کا حوالہ دیے بغیر کہا گیا ہے کہ وحید مراد نے بدھ 12 مارچ کو اپنے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ بلوچستان کا ایک انچ ایسا نہیں بچا جہاں حکومت اختیار کا دعویٰ کر سکے۔ وہ یہ جنگ مکمل طور پر ہار چکی ہے اور اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ سب ختم ہو گیا ہے۔ ہم نے خبردار کیا تھا، ہم سے پہلے والوں نے بھی خبردار کیا تھا، انھوں نے سننے کے بجائے ہمارا مذاق اڑایا۔ انھوں نے ہمارے الفاظ کو خالی دھمکیوں کے طور پر مسترد کر دیا۔ جبکہ انھوں نے ظلم، لوٹ مار اور خونریزی کے نظام کو ہوا دی۔ ہر ایک حکومت نے بغیر کسی استثنیٰ کے بلوچ عوام کی منظم نسل کشی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ وحید مراد نے لکھا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جہاں ہر ادارہ، ہر انتظامیہ، ہر نام نہاد لیڈر ہمارے خلاف ہمیشہ متحد رہا ہے۔ اور اپنے جرائم کو تسلیم کرنے کے بجائے انھوں نے وہی کیا جو کرنے میں یہ سب سے ماہر ہیں: الزام دوسروں پر ڈالنا۔ لیکن آج میں کچھ واضح کرنا چاہتا ہوں۔ وفاقی حکومت کو سیاسی جماعتوں کو، عدلیہ کو، اسٹیبلشمنٹ کو، آپ نے اپنے ہاتھوں سے بلوچستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ لیکن اس بار، یہ ہمارے قابو سے باہر ہے، اور یہ آپ کے اختیار سے بھی باہر ہے۔

سعودی میڈیا اردو نیوز کے لیے کام کرنے والے وحید مراد کو منگل کی شب نامعلوم افراد ان کی رہائش گاہ سے زبردستی لے گئے تھے جس کے بعد بدھ کی صبح ان کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں صحافی وحید مراد کو فوری بازیاب کرانے اور غیر قانونی طور پر اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

وحید مراد کی ساس عابدہ نواز کی جانب سے دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری دفاع ، آئی جی اور ایس ایچ او کراچی کمپنی کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ ’رات دو بجے کالی وردی میں ملبوس افراد جی ایٹ ہمارے گھر آئے، دو پولیس کی گاڑیاں بھی ان کے ساتھ نظر آرہی تھیں۔ کالی وردی میں ملبوس لوگ وحید مراد کو زبردستی اٹھا کر لے گئے ہیں۔ ہمارے گھر آئے افراد نے میرے ساتھ بھی بدتمیزی کی۔‘

اسلام آباد کے تھانہ کراچی کمپنی میں وحید مراد کی بازیابی اور مبینہ اغوا کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے دی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ بدھ کی رات تقریباً دو بجے وحید مراد کو تین گاڑیوں میں سوار نقاب پوش مسلح افراد ان کے گھر سے اغوا کر کے لے گئے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے وقت وحید مراد کی ساس بھی گھر میں موجود تھیں اور مسلح افراد جاتے وقت وحید مراد کی ساس کا فون بھی ساتھ لے گئے ہیں۔

پولیس نے وحید مراد کو بدھ کی دوپہر جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا اور ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت نے ان کا دو روزہ ریمانڈ منظور کر لیا۔

یاد رہے کہ صحافی وحید مراد اردو نیوز سے وابستہ ہیں اور اس کے علاوہ وہ پاکستان 24 کے نام اسے ایک ویب پورٹل بھی چلاتے ہیں۔

Share This Article