ایڈووکیٹ خالد کبدانی اور دیگر وکلاء نے کوئٹہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کوئٹہ میں پر امن مظاہرین پر تشدد اور قتل و غارتگری کی شدید مذمت کی ۔
ایڈووکیٹ خالد کبدانی نے کہا حالیہ دنوں سیکورٹی فورسز نے بلوچ نوجوانوں کو قتل کیا۔ اگر دہشت گرد تھے تو ان کے لاشیں لواحقین کے حوالے کیا جاتا، 13 لاشیں دہشت گرد نہیں بلکہ لاپتہ افراد کے تھے، اسلام اور کسی قانون میں لاشوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتا، لاپتہ افراد کو فیک انکاؤنٹر میں قتل کئے گئے۔
انہوں نے کہا پولیس نے ایف آئی آر میں ایسے دفعات شامل کئے جس کا پولیس خود عدالت میں سامنا نہیں کرسکتی، ریاست انڈین پائلٹ کو چائے پھیلاتے ہیں اور بلوچ نوجوانوں کو قتل کرتے ہیں، بلوچ مرد اور خواتین کے گرد گہرا تنگ کیا جارہاہے، جب گھیرا تنگ کرو گے تو نوجوان خود کش بمبار ہی بنیں گے۔
ایڈووکیٹ کبدانی نے کہا پولیس کی جانب سے سریاب روڈ پر نہتے بلوچ خواتین اور مردوں پر کریک ڈاؤن کیا، کریک ڈاؤن میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت متعدد رہنماؤں کو گرفتار کیا، پر امن احتجاج پر پولیس کے کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا پچھلے کچھ دہائیوں سے بلوچستان میں لا قانونیت عروج پر ہے، صوبائی حکومت فل فور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کو رہا کریں، حکومت ان کے مطالبات تسلیم کرنے بجائے مظاہرین پر تشدد کی، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو فل فور رہا کیا جائے۔