پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے سیاسی کارکنان کرن کنول ، رابعہ رفیق اور ماریہ خان نے بلوچستان میں حالیہ واقعات اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری و نہتے مظاہرین پر ریاستی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی بوکھلاہٹ قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے رہنما کرن کنول اور رابعہ رفیق نے بلوچستان میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر خواتین ومظاہرین پر تشددکو ریاستی بوکھلاہٹ قرار دیکر اس کی شدید مذمت کی ہے۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی باغ کے ضلعی صدر کرن کنول اور جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی باغ کے ضلعی سیکرٹری نشر واشاعت رابعہ رفیق نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان تمام تر اخلاقی و قانونی اصولوں کی پامالی کر چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نہتے بلوچ خواتین اور بچوں کے پرامن مظاہرے پر رات گئے کریک ڈاؤن کرنا، ان پر تشدد کرنا ریاستی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے جو مظلوموں کی آواز دبانے کی خاطر اس قدر اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچوں کا اگر کوئی جرم ہے تو اسے قانون کے تحت ثابت کریں اور سزا دیں لیکن بچوں کو سرعام قتل کر دینا اور اس پر احتجاج کرنے پر مزید تشدد کرنا دنیا کے کسی بھی قانون میں نہیں ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
اسی طرح جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن باغ کی جنرل سیکرٹری ماریہ خان نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔
اپنے ایک جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم محکوم ریاست کے باشندے پشتون اور بلوچ قوم کے حق آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔
ماریہ خان نے ریاست پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پشتونوں اور بلوچوں پر ہونے والے جبر کو بند کیا اور انکے آزاد ریاست کے حق کو تسلیم کیا جائے۔