بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں پاکستانی فوج پر تین مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے کوہلو میں قابض پاکستانی فوج کو دو مختلف حملوں میں نشانہ بنایا اور شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے اسنیپ چیکنگ کی۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے 18 مارچ کو کوہلو اور سبی کے درمیانی علاقے برگ میں شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے اسنیپ چیکنگ کی اس دوران سرمچاروں نے لیویز فورس کے ایک اہلکار کو حراست میں لیا تاہم بعدازاں اس کو رہا کردیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ دن قابض پاکستانی فوج نے علاقے میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے قافلے کی شکل میں پیش قدمی کی کوشش کی جہاں گھات لگائے سرمچاروں نے ان پر حملہ کیا۔ حملے کے نتیجے میں قابض فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا جبکہ ان کی موٹرسائیکل ناکارہ ہوگئی۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز دشمن فوج نے برگ سے متصل علاقے میں دوبارہ پیش قدمی کی کوشش کی۔ سرمچاروں نے دشمن فوج پر حملہ کرکے انہیں جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔ سرمچاروں کے حملے کے باعث دشمن فوج پسپا ہوگئی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی مذکورہ تینوں کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔