بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی سے پاکستانی فورسز نے ایک اور شخص کوحراست میں لینے کے بعد جبری طور پرلاپتہ کردیا ہے جبکہ نوشکی سے ایک لاپتہ نوجوان بازیاب ہوگیا ہے۔
کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی سے گزشتہ شب ڈھائی بجے کے وقت فورسز نے ایک اور شخص کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ۔
جبری لاپتہ کئے جانے والے شخص کی شناخت حاجی عبدالرحمن قمبرانی کے نام سے ہوگئی ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب فورسز نے کلی قمبرانی میں چھاپہ مار کر حاجی عبدالرحمن قمبرانی کو حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا ہے۔
قمبرانی سے فورسز نے پہلے ہی ایک ہی خاندان کے7 افراد کو جبری لاپتہ کردیا ہے جن کی بازیابی کے لئے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ اب یہ گذشتہ شب حراست میں لیکر جبری لاپتہ کیا جانے والا آٹھواں فرد ہے جسے جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب نوشکی سے فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ نوجوان شکیل احمد مینگل بازیاب ہوکر پہنچ گیا ہے۔
اہلخانہ نے ان کی بازیابی کی تصدیق کی ہے ۔