پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک ہارڈ سٹیٹ بنانے کی ضرورت ہے ہم گورننس کے گیپس کو کب تک افواجِ پاکستان اور شہدا کے خون سے بھرتے رہیں گے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری آرمی چیف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں بہتر گورننس کے ساتھ پاکستان کو ایک ہارڈ سٹیٹ بنانے کی ضرورت ہے، ہم کب تک سافٹ سٹیٹ کی طرز پر بے پناہ جانوں کی قربانی دیتے رہیں گے۔‘
خیال رہے کہ آج قومی اسمبلی کے سپیکر کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان، سیاسی قائدین، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، اہم وفاقی وزرا اور فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
پاکستان تحریکِ انصاف اور قوم پرست جماعتوں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا گیا تھا۔
اس سے قبل اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کی حکمتِ عملی پر فوری عمل درآمد پر زور دیا گیا ہے۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ ’ملک کی سلامتی سے بڑا کوئی ایجنڈا نہیں، کوئی تحریک نہیں، کوئی شخصیت نہیں۔ پائیدار استحکام کے لیے قومی طاقت کہ تمام عناصر کو ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔ علما سے درخواست ہے کے وہ خوارج کی طرف سے اسلام کی مسخ شدہ تشریح کا پردہ چاک کریں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر یہ ملک ہے تو ہم ہیں، لہٰذا ملک کی سلامتی سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی چیز نہیں۔ پاکستان کے تحفظ کے لیے یک زبان ہو کر اپنی سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک بیانیہ اپنانا ہو گا۔‘
آرمی چیف کے بیان کے مطابق ’جو سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ان دہشتگردوں کے ذریعے کمزور کر سکتے ہیں آج کا دن ان کو یہ پیغآم دیتا ہے کہ ہم متحد ہو کر نہ صرف ان کو بلکہ ان کے تمام سہولتکاروں کو بھی ناکام کریں گے۔‘