بلوچستان کے علاقے تربت اور قلات میں دو مقامات پر لاپتہ افراد لواحقین نے جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجاً شاہارہیں بلاک کردیں، دھرنا جاری ہے ۔
شاہراہوں کی بندش سے سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں اور سینکڑوں مسافر پھنس گئے ہیں۔
ضلع کیچ کے شہر تربت کے علاقے بہمن اور ڈنک سے پاکستانی فورسز ہاتھوں لاپتہ کیے گئے نعیم بشیر، اسماعیل اور نعمان رفیق کی عدم بازیابی کے خلاف ان کے اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے تربت میں جدگال ڈن (ڈی بلوچ پوائنٹ) پر ایم 8 شاہراہ کو دھرنا دے کر بلاک کردیا ہے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ہم نے اس سے قبل بھی احتجاج کیا تھا لیکن ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ہمیں یقین دہانی کرانے کے بعد احتجاج ختم کرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ ڈی سی نے تینوں لاپتہ نوجوانوں کی بازیابی کے لیے متعدد بار ہم سے وعدہ کیا تھا لیکن وہ وعدہ وفا نہ ہوسکے اس لیے مجبور ہوکر ہم نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سڑکوں پہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کمشنرمکران اور ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ سے تینوں لاپتہ نوجوانوں کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ جب تک ہمارے نوجوان بازیاب ہوکر گھروں کو واپس نہیں لوٹتے ایم 8 شاہراہ پر دھرنا جاری رکھیں گے اور کسی صورت یہاں سے نہیں اٹھ جائیں گے۔
اسی طرح قلات میںلاپتہ فہیم اور خادم کی عدم بازیابی کے لئے خلاف لواحقین نے ایک بار پھر شاہراہ بلاک کردی ہے۔
کوئٹہ سے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے قلات کے رہائشی فہیم اور خادم حسین کے لواحقین نے ان کی عدم بازیابی پر منگچر کے مقام پر کوئٹہ کراچی شاہراہ ایک بار پھر بند کر دی ہے۔
لواحقین کا موقف ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے لاپتہ فہیم اور خادم حسین کی بازیابی کے لیے جو معاہدہ کیا تھا اس پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔
تین روز قبل لاپتہ ہونے والے فہیم اور خادم حسین کے لواحقین نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ معاہدے کے بعد 40 گھنٹوں سے قومی شاہراہ پر جاری دھرنا موخرکیا تھا۔
فہیم احمد اور خادم بلوچ دونوں انٹرمیڈیٹ کے طالبعلم تھے جنہیں گزشتہ شب سمنگلی روڈ واقع جناح ٹاؤن سے رات کے ایک بجے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔