بلوچستان کے علاقے پنجگور اور کوئٹہ سے بلوچ گلوکارہ نوشین قمبرانی کے بھائی سمیت 3 افراد پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کردیئ جبکہ ایک جبری لاپتہ نوجوان بازیاب ہوگیا ہے۔
پنجگور سے اطلاعات کے مطابق پروم کے علاقے سے فورسز نے فیصل نامی نوجوان کو حراست بعد اپنے ہمراہ لے گئے، جس کے بعد سے لاپتہ ہیں۔
دوسری جانب پنجگور وشبود سے 14 مارچ کو فورسز نے احسان بلوچ ولد حاجی زادین کو انکے گھر سے حراست بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
اسی طرح کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی کے رہائشی قبائلی شخصیت 59 سالہ بزرگ ناصر قمبرانی کو آج رات 2:30 فورسز نے ان گھر سے دوسری مرتبہ جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے ۔
ان کے خاندان کے مطابق فورسز نے آج رات گھر پہ چھاپہ مارکر گھر والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، گھر والوں کے موبائل فون چھینے اور ناصر قمبرانی کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
یاد رہے کہ ناصر قمبرانی کو اس سے پہلے 20 اگست 2015 کو بھی فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا جسے بعد ازاں جون 2018 کو چھوڑ دیا گیا تھا۔
بلوچ گلوکارہ نوشین قمبرانی جو جبری لاپتہ ناصر قمبرانی کے بہن ہیں نے اپنے بھائی کی فوری بازیابی کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہم انسانی حقوق کی تمام تنظیموں اور حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ میرے بھائی ناصر جان قمبرانی کے غیر قانونی اغوا کے خلاف آواز اٹھائیں، جنہیں CTD اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے صبح 2:30 بجے کے قریب کلی قمبرانی میں اس کے گھر سے اٹھایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اشتعال انگیز خلاف ورزی نے ہمارے خاندان کو پریشانی میں ڈال دیا ہے، اس کی قسمت کا کوئی علم نہیں۔ جبری گمشدگیاں غیر انسانی اور غیر منصفانہ طریقہ ہے جسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
انہوںنے کہا کہ برائے مہربانی ہمارے ساتھ کھڑے ہوں، بولیں، اور میرے ناصر جان کے لیے انصاف کا مطالبہ کریں۔
دوسری جانب فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ اظہار بلوچ نامی نوجوان بازیاب ہوگیا ہے ۔
ان کے کزن اسرار بلوچ ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا پر خبر دی تھی کہ وہ بازیاب ہوگئے ہیں۔
ان کے گرفتاری کی خبر بھی اسرار بلوچ ایڈووکیٹ نے دی تھی اور کہا تھا کہ اظہار کو ان کے فلیٹ سے گرفتار کر کے جبری لاپتہ کردیا گیا ہے۔
اب اطلاع دی ہے کہ وہ بازیاب ہوگئے ہیں۔
انھوں نے وکلاء برادری انسانی حقوق کے کارکنوں سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں صحافی برادری اور ان سب کا شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے اظہار بلوچ کے لیے آواز اٹھائی۔