امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی، سی آئی اے کے سربراہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا نے فوجی امداد معطل کرنے کے علاوہ یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی معطل کر دیا ہے۔
فاکس نیوز سے منسلک ماریہ بارٹیرومو کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر جان ریٹکلف نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے پاس ایک بنیادی سوال تھا کہ کیا صدر زیلنسکی امن کے لیے پرعزم ہیں اور انھوں نے کہا کہ ‘چلیے ہم ٹھرتے ہیں میں آپ کو اس بارے میں سوچنے کا موقع دینا چاہتا ہوں۔ ‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ردعمل زیلنسکی کے اس بیان کے فوری بعد سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ امن کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کے مشیر برائے قومی سلامتی مائیک والٹس نے کہا کہ امریکہ نے یوکرین سے خفیہ کے تبادلے کو روک دیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکہ نے ابھی وقفہ لیا ہے ار وہ یوکرین کے ساتھ انٹیلیجنس شئیر کرنے کے عمل پر نظر ثانی کر رہا ہے۔
تاہم انھوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ ان کی یوکرینی ہم منصب سے فون پر بات ہوئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے مقام اور موضوع پر ہمارے درمیان بات ہوئی۔
ادھر فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں کے دفتر کا کہنا ہے کہ صدر ابھی امریکہ کا دورہ پلان نہیں کر رہے۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے خبر آئی تھی کہ فرانس کے صدر برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ساتھ پھر سے امریکہ جانے کے معاملے کو دیکھیں گے۔