پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں گذشتہ شب چھاؤنی کے علاقے میں دو بم دھماکوں کے نتیجے میںاب تک 17 افراد کی ہلاکتوں کی تصدقی کی جارہی ہے جن میں سیکورٹی فورسز اہلکار، شہری اور حملہ آور شامل ہیں۔
حملے میں متعدد مکانات و مسجد منہدم ہوگئے تھے جبکہ 30 افراد زخمی ہیں۔
حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بنوں کینٹ تھانے کی حدود میں فائرنگ کے تبادلے میں 6 حملہ آور بھی مارے گئے۔
کے پی پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق دھماکے چھاؤنی کے اندر ہوئے، جہاں سیکیورٹی فورسز کلیئرنس آپریشن کر رہی ہیں۔
دھماکے کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بارے میں اب تک کسی قسم کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ دور دراز کے علاقوں میں مکانات اور مساجد کو نقصان پہنچا جس میں عام شہریوں کا جانی نقصان ہوا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی چھاؤنی کے اندر لے جانے کی کوشش کی تاہم ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں میں سے کچھ کو چھاؤنی میں داخلے کی کوشش کے دوران نشانہ بنایا۔
ان دھماکوں کے نتیجے میں چھاؤنی کے قریب واقع دیہات کوٹ براڑہ کو زیادہ نقصان پہنچا ہے جہاں مکانات منہدم ہوئے ہیں۔
ذرائع نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کی بھی تصدیق کی، جن میں 10 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اور کے جی این ہسپتال بنوں منتقل کردیا گیا جبکہ زخمیوں کو سی ایم ایچ منتقل کیا گیا۔
دھماکوں کی شدت کے باعث آس پاس کے کئی گھروں کی چھتیں اور دیواریں منہدم ہوگئیں، جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد ملبے تلے دب گئے، چھاؤنی کے داخلی دروازے سے متصل مسجد بھی منہدم ہوگئی، متعدد نمازی مبینہ طور پر ملبے تلے دب گئے، ملبے سے انہیں نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔
ایک ریسکیو افسر نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن شروع کرنے کے لیے ایمبولینسوں کے ساتھ میڈیکل ٹیموں کو علاقے میں بھیج دیا گیا تھا، لوگ تباہ شدہ گھروں اور ایک مسجد کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور امدادی کارکن انہیں باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کی ابھی تک تصدیق نہیں کی جا سکی، کیوں کہ ہسپتالوں سے اب تک 9 افراد کی ہلاکت اور 22 زخمیوں کی اطلاع ملی ہے، تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے اور ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس کو ڈیوٹی پر بلا لیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جیش فرسان محمد نامی شدت پسند تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اس تنظیم کا تعلق کالعدم عسکریت پسند گروپ حافظ گل بہادر سے ہے۔ ماضی میں بھی اس تنظیم نے شدت پسند حملوں کی ذمہ داریاں قبول کی ہیں۔