انتظامیہ میں شامل بلوچ اہلکار اپنے خواتین و بچوں پر تشدد کے بجائے مستعفی ہو جائیں،ڈاکٹر ماہ رنگ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے حب چوکی میں بلوچ جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری دجرنے پر ریاستی کریک ڈائون اور خواتین و بچوں پر تشدد و گرفتاری بعد لاپتہ کرنے پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انتظامیہ میں شامل بلوچ اہلکار اپنے بلوچ خواتین و بچوں پر تشدد وگرفتاریوں کے بجائے مستعفی ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ حب دھرنے کے گرفتار شرکاء، بشمول بلوچ خواتین، کو تاحال رہا نہیں کیا گیا۔ تمام تر پرتشدد اقدامات اور گرفتاریوں کے باوجود حب دھرنا جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق، نام نہاد وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو پرامن خواتین اور بچوں پر تشدد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حب سمیت جہاں جہاں جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین دھرنا دیے ہوئے ہیں، وہاں انتظامیہ میں شامل بلوچ اہلکار اپنے بلوچ خواتین اور بچوں پر تشدد کرنے کے “غیروں” کے غیر قانونی اور ظالمانہ احکامات ماننے کے بجائے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں اور اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں۔

بی وائی سی رہنما نے کہا کہ بلوچستان میں لاقانونیت اور ریاستی جبر اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ایک جانب ہمارے پیاروں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جاتا ہے، اور جب ہم ان کی بازیابی کے لیے پرامن احتجاج کرتے ہیں تو خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں گرفتار کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ اس وقت ایک بار پھر حب دھرنے کے شرکاء پر تشدد کے لیے ریاستی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی جا چکی ہے۔ میں حب کے باشعور عوام سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کے دھرنے میں بھرپور شرکت کریں اور ان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

Share This Article