فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں کا کہنا ہے کہ یوکرین کی خود مختاری کے لیے امریکہ کی حمایت حاصل کرنے کا بہترین رستہ اہم معدنیات سے متعلق معاہدہ بن سکتا ہے جس پر اس وقت واشنگٹن اور کئیو مذاکرات کر رہے ہیں۔
اگرچہ یوکرین کے صدر نے ایسے کسی معاہدے سے انکار کیا ہے مگر اب فرانس کے صدر نے امریکہ کے دورے کے دوران یوکرین کی خود مختاری کے لیے اس معاہدے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
نایاب زیرزمین معدنیات جنھیں ’ریئر ارتھ‘ کہا جاتا ہے کہ 17 ملتی جلتی کیمیائی خصوصیات والی معدنیات ہیں جن کا جدید ٹیکنالوجی میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ معدنیات سمارٹ فون، کمپیوٹر، طبی سامان اور کئی دیگر اشیا کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان میں سکینڈیئم، یٹریئم، لانتھانم، سیریئم، پراسیوڈائمیئم، نیوڈیئم، پرومیتھیئم، سماریئم، یوروپیئم، گاڈولینیئم، ٹیربیئم، ڈسپروسیئم، ہولمیئم، اربیئم، تھولیئم، یٹیربیئم اور لٹیٹیئم نامی معدنیات شامل ہیں۔
انھیں نایاب اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ ان کا خالص حالت میں مل جانا بہت غیرمعمولی سمجھا جاتا ہے تاہم دنیا بھر میں ان کے ذخائر موجود ہیں۔
لیکن اکثر یہ نایاب معدنیات تھوریئم اور یورینیئم جیسے تابکاری عناصر کے ساتھ موجود ہوتا ہے اور ان کو الگ کرنے کے لیے بہت سے زہریلے اجزا کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور اسی لیے ان کو نکالنے کا عمل پیچیدہ اور مہنگا ہوتا ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے جن 30 اجزا کی ’انتہائی اہم مواد‘ کے طور پر تعریف کی گئی ہے ان میں سے 21 یوکرین میں پائی جاتی ہیں اور دنیا میں موجود نایاب معدنیات کے ذخائر کا پانچ فیصد اسی ملک میں ہے۔
جن علاقوں میں یہ ذخائر موجود ہیں ان میں سے زیادہ تر یوکرین کے ’کرسٹلائن شیلڈ‘ نامی علاقے کے جنوب میں ازوو سمندر میں ہیں اور زیادہ تر علاقے روس کے قبضے میں ہیں۔
تاہم کیئو، مڈل بز، ونیٹسیا اور زٹومیر خطوں میں بھی ان کے ذخائر ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں اشیا کی شناخت ہوئی ہے لیکن ان میں سے چند ہی کو نکالنا معاشی اعتبار سے سودمند ہو گا۔
ایڈم ویب ’بینچ مارک منرل انٹیلیجنس‘ میں بیٹری سے متعلقہ معدنیات کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اب تک جو تخمینے یا اندازے لگائے گئے ہیں وہ صرف اندازے ہی ہیں۔‘
ان کے مطابق ان معدنیاتی ذخائر کو معاشی وسائل میں تبدیل کرنے کے لیے بہت کام کی ضرورت ہے۔ فوربز یوکرین کے مطابق دیگر اہم معدنیات میں سے 70 فیصد ڈونیٹسک، لوہانسک اور ڈنیپروپیٹروسک خطوں میں واقع ہیں اور ان میں سے زیادہ تر علاقے روس کے زیراثر ہیں۔
یوکرین کی حکومت کے مطابق ملک میں ساڑے چار لاکھ ٹن لیتھیئم کے ذخائر ہیں۔ روس نے دو لیتھیئم ذخائر پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔
امریکہ کی ان معدنیات تک رسائی کی خواہش کی ایک بڑی وجہ چین سے مقابلہ ہے جو دنیا میں ایسی نایاب معدنیات کی رسد اور فراہمی کا بڑا کھلاڑی ہے۔
گزشتہ دہائیوں کے دوران چین نایاب معدنیات نکالنے اور انھیں پروسیس کرنے میں عالمی سطح پر بہت آگے نکل گیا اور اس کے پاس ناصرف 60 سے 70 فیصد تک کی پروڈکشن موجود ہے بلکہ 90 فیصد پروسیسنگ بھی چین کے پاس ہی ہے۔
اور چین پر یہ انحصار ہی امریکہ کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ آخر یہی معدنیات جدید ٹیکنالوجی کے لیے ضرروی ہیں جس میں الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر اسلحہ تک شامل ہے۔