شعبان وآواران سے 5 لاشیں برآمد،3 کی شناخت بطور لاپتہ افراد کے ہو گئی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے شعبان اور آواران سے 5 تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن میں 3 کی شناخت بطور لاپتہ افراد کے ہو گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شعبان سے برآمد لاشیں تشدد زدہ ہیں جنہیں جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔

واضع رہے کہ گذشتہ روز بولان میں بلوچ عسکریت پسندوں کی کوئٹہ سبی روڈ پر ناکہ بندی و فورسز کے ساتھ جھڑپ کے بعد عسکری حکام نے 4 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا اور حسب معمول ان کی شناخت میڈیا میں ظاہر نہیں کی گی تھی۔

شعبان سے برآمد 4 لاشوں میں 2 کی شناخت حافظ محمد طاہر ولد مرحوم حافظ محمد اکبر ہارونی اورزبیر احمد ہارونی ولد عبدالصمد ہارونی کے ناموں سے ہوگئی ہے جن کا تعلق سوراب گدر سے بتایا جارہا ہے۔جنہیں گزشتہ سال دسمبر میں ضلع قلات کے علاقے گدر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

دونوں کو جعلی مقابلے میںقتل کے بعد لاشیں ویرانے میں پھینک دیئے گئے۔

جبکہ آواران سے برآمد ہونے والی لاش کی شناخت مقامی شخص حمید اللہ کے طور پر ہوئی، جسے 15 دسمبر 2024 کو خضدار سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا تھا۔

باقی دو لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بھی پہلے سے زیر حراست جبری لاپتہ افراد کی ہو سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں کہ بلوچستان میں جبری لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا گیا ہو اس سے قبل بھی سی ٹی ڈی اور دیگر فورسز پر ایسے الزامات لگ چکے ہیں جن کے خلاف بلوچ عوام اور انسانی حقوق کے کارکنان مسلسل احتجاج کرتے رہے ہیں۔

Share This Article