ٹرمپ و میکرون ملاقات : یوکرین امن معاہدے میں یورپی امن فوج کی تعیناتی پر اتفاق

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے لیے فرانس کے صدر ایمینوئل میکرون واشنگٹن کے دورے پر ہیں۔

فرانسیسی صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یوکرین پر امن ڈیل کے لیے کچھ سکیورٹی گارنٹی کا بھی ہونا ضروری ہے۔

پیر کو ٹرمپ سے ملاقات کے بعد ایمینوئل میکرون نے امریکی صدر کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’امن کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم یوکرین کو بھول جائیں اور اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ (یوکرین میں) جنگ بندی بغیر کسی سکیورٹی گارنٹی کے ہی ہو جائے۔‘

ٹرمپ نے خود کسی بھی سکیورٹی گارنٹی کے بارے میں بات نہیں کی ہے البتہ انھوں نے یہ کہا ہے کہ یوکرین میں امن لانے کی قیمت اور بوجھ صرف امریکہ کو ہی نہیں بلکہ یورپ کو بھی اٹھانا ہوگا۔

میکرون نے اس کے جواب میں کہا کہ یورپ اس بات کی اہمیت سے آگاہ ہے کہ سکیورٹی یقینی بنانے سے متعلق اپنا متناسب حصہ ڈالا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یوکرین پر روس کی طرف سے جنگ کے تین سال آگے کے رستے کا تعین کر رہے ہیں۔

میرون اور ٹرمپ نے ملاقات میں بڑی گرمجوشی دکھائی تاہم اوول آفس میں صحافیوں سے بات چیت اور اس کے بعد دونوں رہنماؤں کی 40 منٹ کی مشترکہ پریس کانفرنس میں یوکرین میں جنگ کے خاتمے سے متعلق کچھ امور پر واضح اختلافات کھل کر سامنے آئے۔

اس بات چیت میں یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق امن ڈیل کے لیے سکیورٹی گارنٹی اور کچھ دیگر امور پر دونوں رہنما ایک صفحے پر نظر نہیں آئے۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد سے جلد جنگ بندی چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب اس پر اتفاق ہو جائے گا تو پھر وہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے لیے روس کا دورہ کریں گے۔

میکرون نے جنگ بندی اور پھر ایک وسیع تر امن معاہدے میں یوکرین کے آئندہ تحفظ کے لیے واضح سکیورٹی گارنٹی یقینی بنانے کی بات کی۔

انھوں نے کہا ’ہم جلد امن چاہتے ہیں، مگر اہم ایک ایسا معاہدہ نہیں چاہتے کہ جو کمزور ہو۔‘

تاہم دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کسی بھی امن معاہدے میں یوکرین میں یورپی امن فوج کی تعیناتی شامل ہونی چاہیے۔

میکرون نے اوول آفس میں صحافیوں کو یورپ کی امن فوج کی تعیناتی سے متعلق بتایا کہ ’وہ اگلے مورچوں پر نہیں ہو گی۔ وہ کسی تنازع کا حصہ نہیں بنے گی۔ وہ امن کا احترام یقینی بنانے کے لیے وہاں موجود رہے گی۔‘

اس کے بعد امریکہ کے صدر نے کہا روس کے صدر پوتن بھی اس تجویز کو قبول کر لیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے بالخصوص یہ سوال پوتن سے پوچھا۔ انھیں اس تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘

فرانس کے صدر نے حالیہ ہفتوں میں روسی صدر پوتن کے ساتھ رابطوں کی تعریف کی اور یہ کہا ایسا کرنے کی بہت اچھی توجیہ بھی موجود ہے۔

ٹرمپ نے پوتن کو آمر کہنے سے انکار کر دیا تاہم انھوں نے گذشتہ ہفتے یوکرینی صدر کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے تھے اور کہا کہ گذشتہ ہفتے انھوں نے (زیلنسکی سے) ملاقات کے بعد روس کے سربراہ سے ملاقات کرنی تھی۔

پوتن سے ملاقات سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ابھی یہ نہیں معلوم کہ اب ہماری بات کب ہو گی۔‘ ٹرمپ نے کہا کہ ’کسی وقت میں صدر پوتن سے ملاقات ضرور کروں گا۔‘

Share This Article