بلوچستان کے علاقے آواران سے پاکستانی فورسزنے 2 افراد جبری طور پر لاپتہ کردیئے اور پسنی سے جبری گمشدگی کے شکار 3نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے جبکہ بلیدہ میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
آواران کی تحصیل مشکے سے 2 افراد کو فورسز نے جبری لاپتہ کردیا ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق کندھڑی کے دونوں رہائشیوں میں سے فورسز نے کریم جان ولد عظیم سکنہ کندھڑی کو گذشتہ شام لاکھی چوکی بلاکر لاپتہ کردیا ،جبکہ نور اللہ ولد علم خان کو کندھڑی میں رات گئے گھر پر چھاپے کے دوران حراست میں لے لیا بعد ازاں لاپتہ کردیا۔
لواحقین نے انکی بحفاظت بازیابی کیلئے سیاسی سماجی تنظیموں اور سوشل میڈیا پر متحرک افراد سے آواز اٹھانے کی اپیل کی ہے۔
جبکہ ساحلی شہر پسنی سے جبری گمشدگی کے شکار بی این پی کے پبلیکیشن سیکرٹری وحید مجید سمیت ان کے بھائی حفیظ مجید اور ندیم مجید بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے۔
واضح رہے کہ فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے بعد انکی لواحقین کراچی ، مکران شاہراہ کو احتجاجاً بند کرکے انکی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔
دریں اثناضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میناز میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے میناز بلیدہ میں فائرنگ کرکے حفیظ ولد داؤد ساکن محمد آباد میناز نامی شخص پر فائرنگ کرکے اسے زخمی کردیا جسے علاج کے لیے تربت منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ راستے میں دم توڑ گئے۔
قتل کے وجوہات سامنے نہیں آسکے۔