ڈیرہ بگٹی میں فوجی جارحیت دوران 50 سے زائد افراد لاپتہ کئے گئے، ماما قدیر

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیراہتمام بلوچ جبری لاپتہ افراد کا احتجاجی جاری ہے جسے 5738دن ہوگئے ہیں۔

وکلاء برادری ایڈوکیٹ عمران میروانی، ایڈوکیٹ صدام بلوچ و دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی ۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماماقدیر بلوچ نے کہا کہ ڈیڑہ بگٹی میں اس آپریشن میں پاکستانی ہیلی کاپٹروں نے بلوچ آبادیوں پر اندھا دھند شیلنگ کی جس کے نتیجے میں خواتین بچوں سمیت کئی بلوچ بگٹی زخمی ہو ئے جن میں سے کئی کی حالت سنگین بتائی جاتی ہے ۔اس آپریشن کے بعد فورسز نے 50سے زائد بلوچ بگٹی کو تشدد کا نشانہ بناکر جبری لاپتہ کرکے اپنے ساتھ لےگئے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ آئے روز پاکستانی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں میں انسانی حقوق کی سنگین نوعیت کی خلاف ورزیاں اورپر ان علاقائی عالمی ذرائع ابلاغ سمیت تمام انسانی حقوق کے معتبر اداروں کی خاموشی بلوچستان میں ایک بہت بڑے انسانی المیہ کو جنم دےرہا ہے۔ اگر اسی طرح بلوچستان مسلسل نظرانداز ہوتا گیا تو ان چشم پوشیوں سے پاکستانی قابض فورسز شے پاکر بلوچ نسل کشی میں مزید شدت لا کر بلوچستان کولہو لہاں کردیتا ہے ۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ایک طرف بلوچ آبادیوں پر آتش وآہن برسا کر عام شہریوں کے قتل عام مرتکب ہو رہا ہے اور دوسری طرف اپنے روایتی پالیسی سے مارو پھینکو پر تندہی سے عمل پیرا ہے ۔ آج بلوچ فرزندوں کی جدوجہد قربانیوں کی وجہ سے بلوچ قومی تحریک کے عالمی پذیرائی میں بلوچ طلباء کا ایک بہت بڑا کردار ہے اگر بلوچستان میں اسی طرح کشت خون جبری لاپتہ ہوتارہا تو بلوچستان ایک اور بوسنیا کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

انہوںنے کہا کہ ہم تمام انسانیت دوستوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی توجہ بلوچستان میں جنم لینے والے ان سنگین انسانی المیہ پر مبذول کرانا چاہتے ہیں اور خاص طور پر اقوام متحدہ ایمنسٹی انٹرنیشنل یورپی یونین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کے سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کو روک کر اپنا اخلاقی اور قانونی فرض ادا کریں۔

Share This Article