سلمان رشدی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے کومجرم قراردیدیا گیا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ایک امریکی عدالت نے برطانوی مصنف سلمان رشدی کو ’قتل کرنے کی کوشش‘ کرنے والے ’حملہ آور‘ کو مجرم قرار دیا ہے۔

نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے 27 برس کے ہادی ماطر کو 30 برس سے زائد قید کی سزا کا سامنا ہے۔

ہادی ماطر کو مجرم قرار دینے کے بعد اب ان کی سزا کا تعین 23 اپریل کو کیا جائے گا۔

سلمان رشدی پر یہ حالیہ حملہ اگست 2022 میں امریکی ریاست نیویارک کے ایک تعلیمی ادارے میں اُس وقت ہوا تھا جب وہ سٹیج پر موجود تھے اور سامعین کو ایک لیکچر دینے کی تیاری کر رہے تھے۔ اس حملے میں سلمان رشدی کا ایک ہاتھ مفلوج ہوا، اُن کے جگر کو نقصان پہنچا اور وہ ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے تھے۔

ملزم ہادی ماطر استغاثہ کی جانب سے خود پر لگائے گئے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ تاہم جمعے کے دن دو ہفتوں کے ٹرائل کے بعد ایک جیوری نے ہادی ماطر کو قصوروار قرار دیا تھا۔

اس مقدمے کی سماعت نیو یارک کی جس عدالت میں ہوئی وہ اُس مقام سے کچھ ہی میل دور واقع ہے جہاں سلمان رشدی پر حملہ ہوا تھا۔

رواں ہفتے منگل کے روز استغاثہ کی جانب سے سلمان رشدی کو پہلے گواہ کے طور پر کٹہرے میں بلایا گیا اور انھیں حملے سے قبل اور اس کے فوراً بعد کے لمحات کو یاد کرنے کا کہا گیا۔

77 سالہ مصنف نے جیوری کو بتایا تھا کہ حملے کے روز وہ شاٹوکوا انسٹیٹیوٹ میں ایک لیکچر دینے آئے تھے اور سٹیج پر بیٹھے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ جب سامعین سے اُن کا تعارف کروایا گیا تو اسی لمحے انھوں نے دیکھا کہ اُن کے دائیں جانب سے ایک شخص اُن کی طرف دوڑتا ہوا آ رہا ہے۔

اُن کے مطابق حملہ آور نے گہرے رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا اور چہرے پر ماسک لگایا ہوا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے حملہ آور کی آنکھوں میں دیکھا تو انھیں جھٹکا لگا۔ سلمان رشدی کا کہنا ہے کہ اُس شخص کی آنکھوں میں گہرائی اور غصہ تھا۔

سلمان رشدی نے بتایا کہ پہلا وار انھیں اپنے دائیں جبڑے اور گردن پر محسوس ہوا۔ اُن کا کہنا ہے کہ پہلے پہل انھیں لگا کہ شاید انھیں مکا مارا گیا ہے مگر پھر انھیں اپنے کپڑوں پر خون گِرتا دکھائی دیا۔

’اُس وقت وہ مجھ پر لگاتار وار کر رہا تھا، (چاقو) گھونپ رہا تھا اور کاٹ رہا تھا۔‘ اُن کا کہنا ہے کہ یہ سب محض چند سیکنڈز میں ہوا۔

برطانوی مصنف نے عدالت کو مزید بتایا کہ اُن پر کُل 15 وار کیے گئے جن سے ان کی آنکھ، گال، گردن، سینے، جسم کے اُوپری اور ران پر زخم آئے۔

انھوں نے بتایا کہ آنکھ پر لگنے والا چاقو کا وار سب سے تکلیف دہ تھا۔

ایک موقع پر انھوں نے اپنا چشمہ اُتارا، جس کے ایک رنگین شیشے سے اُن کی زخمی آنکھ چھپی ہوئی تھی، تاکہ لوگوں کو زخم کی نوعیت کا اندازہ ہو سکے۔

انھوں نے جیوری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، بس یہی بچا ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ اس زخمی آنکھ سے انھیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

Share This Article