امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ امن مذاکرات میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا موجود ہونا ’اہم‘ نہیں ہے۔
فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میرا نہیں خیال کے اُن (زیلنسکی) کا ان اجلاسوں میں موجود ہونا ضروری ہے۔‘
’وہ معاہدے کرنے کے اس عمل کو بہت مشکل بنا دیتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر زیلنسکی شکایت کرتے ہیں کہ انھیں اجلاسوں میں شامل نہیں کیا جاتا لیکن وہ تین برسوں تک ایسے اجلاسوں میں شامل ہوتے رہے ہیں ’اور کچھ نہ کر سکے اس لیے میرا نہیں خیال کہ ان کا میٹنگز میں ہونا اہم ہے۔‘
خیال رہے رواں ہفتے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کروانے کے حوالے مذاکرات کی نشست سعودی عرب میں ہو چکی ہے لیکن اس اجلاس میں یوکرین کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔
اپنے انٹرویو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹامر اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے روس اور یوکرین کی جنگ رُکوانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
انٹرویو کے دوران جب ٹرمپ سے وزیراعظم کیئر سٹامر اور صدر ایمانویل میکخواں سے متوقع ملاقاتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ: ’انھوں نے کچھ نہیں کیا، روس سے کوئی ملاقاتیں نہیں کیں۔‘
’میکخواں میرے دوست ہیں، ایک اچھے آدمی ہیں‘ مگر دونوں (صدر مکیخواں اور وزیر اعظم سٹامر) نے روس کے حوالے سے کچھ نہیں کیا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں اور برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ان دونوں ممالک کے سربراہان اگلے ہفتے واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں اور وائٹ ہاؤس میں ان کی امریکی صدر سے ملاقات ہونی ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا امن مذاکرات میں کوئی کردار نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’میرا نہیں خیال کے وہ اس مذاکراتی عمل کے کے لیے کوئی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔‘
روس کی طرف سے 2022 میں یوکرین میں جنگ کے آغاز کے بعد سے برطانیہ، فرانس اور دیگر اتحادی کئیو کو ہتھیار اور دیگر اسلحہ فراہم کرتے آ رہے ہیں۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکہ اور روس کے مذاکرات سے ایک دن قبل پیر کو یورپی رہنماؤں نے پیرس میں یوکرین پر ایک ہنگامی اجلاس کیا۔ ان یورپی رہنماؤں کو یہ ڈر تھا کہ یورپ اور یوکرین کو ان مذاکرات سے علیحدہ رکھا جا سکتا ہے۔
ان کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا۔ امریکہ نے یورپ اور یوکرین کو ریاض میں روس کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات عمل میں مدعو نہیں کیا تھا۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں اگرچہ ٹرمپ نے سٹارمر اور میکرون پر تنقید کی مگر انھوں نے ساتھ ہی یورپی رہنماؤں کے کردار کی تعریف بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ وہ میکرون کو دوست سمجھتے ہیں اور سٹارمر کئیر کے بارے میں انھوں کہا ’وہ بہت اچھے شخص ہیں۔‘
واضح رہے کہ اگلے ہفتے پیر کو فرانسیسی صدر اور جمعرات کو برطانوی وزیراعظم کا وائٹ ہاؤس کے دورے کا امکان ہے۔