یوکرین جمہوری ملک ہے، روس نہیں، یورپی یونین

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

یورپی یونین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ولادیمیر زیلنسکی کو ’آمر‘ قرار دینے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یوکرین ایک جمہوری ملک ہے، (صدر ولادیمیر) پوتن کا روس نہیں۔‘

یورپی یونین کے ترجمان سٹیفن ڈی کیرسمیکر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری اس معاملے پر واضح مؤقف‘ ہے کہ ’صدر زیلینسکی صاف، شفاف اور جمہوری انتخابات کے ذریعے منتخب ہوئے تھے۔‘

یوکرین یورپی یونین کا رُکن تو نہیں ہے لیکن اس کا اہم اتحادی ہے۔

دوسری جانب ناروے میں موجود برطانیہ کے سیکریٹری دفاع جان ہیلی نے کہا ہے کہ ولادیمیر زیلنسکی یوکرین کے منتخب صدر ہیں اور ’انھوں نے وہی کیا ہے جو دوسری عالمی جنگ کے دوران ونسٹن چرچل نے کیا تھا، یعنی جنگ کے دوران انتخابات معطل کر دیے تھے۔‘

برطانوی سیکریٹری دفاع کا بیان ایک ایسا وقت میں سامنا آیا ہے جب گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کو ’آمر‘ قرار دے دیا تھا۔

جان ہیلی کا یوکرین اور روس کے درمیان جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ ’یہ جنگ اس لیے شروع ہوئی کہ روس نے ایک خودمختار ریاست پر حملہ کیا تھا۔ اگر صدر پوتن یوکرین سے اپنی فوج نکال لیں تو یہ جنگ آج ہی ختم ہو سکتی ہے۔‘

’ہمارا کام یوکرین کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اور اس لڑائی میں یوکرینیوں کی حمایت کرنا ہے۔ اگر وہ بات چیت کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو ہم مذاکرات کے دوران بھی ان کی حمایت کریں گے۔‘

برطانوی سیکریٹری دفاع کا مزید کہنا تھا کہ: ’یہ صدر ٹرمپ اور امریکہ کے مفاد میں ہے کہ ہمیں دیرپا امن میسر آئے۔‘

روس و یوکرین مابین جنگ بندی کے حوالے سے یوکرین کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کریلو بُدانو نے کہا ہے کہ اس سال کے آخر تک یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے ہونے کے امکانات ہیں۔

ایک انٹرویو کے دوران بُدانو کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ہم اس سال جنگ بندی کا معاہدہ طے کر لیں گے۔ تاہم یہ معاہدہ کتنی دیر چلے گا اور کتنا مؤثر ہوگا یہ ایک الگ معاملہ ہے۔‘

ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے ’اکثریتی لوازمات‘ پہلے ہی موجود ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی امن فوج کی یوکرین میں تعیناتی کے مؤثر ہونے کے حوالے شکوک شبہات کا شکار ہیں۔

بُدانو کا کہنا تھا کہ ’مجھے کوئی ایک ملک دکھا دیں جہاں امن فوج کی تعیناتی سے معاملات ٹھیک ہو گئے ہوں۔‘

Share This Article