یوکرین میں ’لائٹر ٹچ ری اشورنس فورس‘ تعینات کرنے پر غور

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

یوکرین کے اتحادی ممالک ابھی اس ابتدائی گفتگو میں مصروف ہیں کہ جنگ بندی اور امن کے لیے ہونے والے مذاکرات کے مکمل ہونے پر وہ کئیو کے لیے کیا حفاظتی اقدامات لے سکتے ہیں۔

مغربی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے بڑی تعداد میں امن فوج کے اہلکاروں کو نہیں بھیجا جائے گا جنھیں مشرقی یوکرین میں کسی جنگ بندی کی حدود کے پاس تعینات کیا جا سکے، بلکہ یہ ایک ’لائٹر ٹچ ری اشورنس فورس‘ ہوگی۔

میڈیا میں رواں ہفتے یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ اس فورس میں شامل فوجی اہلکاروں کی تعداد 30 ہزار سے کم ہو گی۔

یہ فورس یوکرین کی فضائی حدود، شہروں، بندرگاہوں اور نیوکلیئر پاور سٹینشنز کی حفاظت کرے گی۔ فوجی ڈرون اور اتٹیلی جنس اکھٹی کرنے والے طیارے بھی یہاں روسی حملوں پر نظر رکھنے کے لیے موجود ہوں گے۔

اس فورس کا مقصد یوکرین کو فضائی مدد دینا اور روس کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں یوکرینی فوج کو پیشگی اطلاع دینا ہوگا۔

دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یوکرین میں نیٹو ممالک کی فوجی نفری کی موجودگی قبول نہیں ہے۔‘

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی طاس کے مطابق پیسکوف کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے ’باعث تشویش‘ معاملہ ہے۔

اس سے قبل روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی بدھ کو کہا تھا کہ وہ کسی امن معاہدے کے تحت یوکرین میں نیٹو ممالک کی امن فوج کی تعیناتی قبول نہیں کریں گے۔

خیال رہے رواں ہفتے برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر نے کہا تھا کہ اگر جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی کثیر المدتی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ برطانوی فوجیوں کو یوکرین بھیجنے پر غور کریں گے۔

کریملن کے ترجمان نے اس موقع پر امریکہ اور روس کے مذاکرات پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ وہ ’امریکی انتظامیہ سے اتفاق‘ کرتے ہیں کہ ’امن کے جلد از جلد قیام کے لیے‘ مذاکرات کی ضرورت ہے۔

خیال رہے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا پہلا دور دو روز قبل سعودی عرب میں ہوا تھا، جس میں یوکرین کے کسی بھی نمائندے نے شرکت نہیں کی تھی۔

اس حوالے سے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے گذشتہ روز کہا تھا کہ یوکرین کو امن مذاکرات سے کوئی الگ نہیں کر رہا۔

Share This Article