زیلنسکی ایک آمر ہیں،بائیڈن کو اپنے اشاروں پر نچاتے رہے ، ٹرمپ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ روز سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے ۔اور انھی بیانات کے ایک سلسلہ میں اب صدر ٹرمپ نے انھیں ڈکٹیٹر قرار دیکر کہا ہے کہ وہ الیکشن کے بغیر آئے ہیں۔

فلوریڈا میں سعودی حمایت یافتہ سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ زیلنسکی بس ایک ہی کام میں ماہر تھے،اور وہ جو بائیڈن کو اپنے اشاروں پر نچانا تھا۔

ٹرمپ کی جانب سے یوکرینی صدر پر تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر زیلنسکی نے سعودی عرب میں ہونے والے امریکہ روس مذاکرات سے کیئو کو باہر رکھنے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر غلط معلومات کے ایسے دائرے میں رہ رہے ہیں جسے ماسکو کنٹرول کر رہا ہے۔

فلوریڈا میں خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، ’وہ (زیلنسکی) انتخابات کرانے سے انکار کر رہے ہیں۔ وہ حقیقی یوکرینی سروے میں نیچے جا رہے ہیں۔ ہر شہر تباہ ہو رہا ہے، ایسے میں مقبولیت کیسے بڑھ سکتی ہے؟‘

ٹرمپ کی جانب سے انھیں آمر کہنے کے بعد فوری طور پر یورپی رہنماؤں نے ردعمل دیا، جن میں جرمن چانسلر اولاف شولز بھی شامل تھے۔

انھوں نے کہا کہ صدر زیلنسکی کا جمہوری حیثیت سے انکار کرنا سراسر غلط اور خطرناک ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر نے یوکرینی صدر کو فون کر کے ان کی حمایت کا یقین دلایا۔

ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان نے کہا کہ برطانوی صدر نے زیلنسکی کو یوکرین کے جمہوری طور پر منتخب صدر کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے ان کی حمایت کا اظہار کیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران انتخابات معطل کرنا بالکل منطقی ہے جیسا کہ برطانیہ نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران کیا تھا۔

یاد رہے کہ صدر ولادیمر زیلنسکی کی پانچ سالہ مدت مئی 2024 میں ختم ہونا تھی لیکن یوکرین میں فروری 2022 میں روسی حملے کے بعد سے مارشل لا نافذ ہے اور انتخابات معطل ہیں۔

Share This Article