روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ انھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مل کر ’خوشی‘ ہوگی تاہم ایسی کسی بھی ملاقات سے قبل مکمل تیاری کرنا ضروری ہے۔
سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر پوتن نے کہا کہ ان کے صدر ٹرمپ سے ’قریبی تعلقات نہیں‘ ہیں اور ’بڑے عرصے سے‘ دونوں کی ملاقات بھی نہیں ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کافی نہیں ہے‘ اور کسی بھی ملاقات سے قبل دونوں رہنماؤں کی ٹیموں کو متعدد اہم معاملات پر کام کرنا ہوگا۔
اس متوقع ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔‘
صدر پوتن نے ریاض میں جاری مذاکرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں امریکہ اور روس کے درمیان بات چیت کا مقصد دو طرفہ تعلقات کی ’بحالی‘ ہے۔
روسی صدر نے واضح کیا کہ امریکہ اور روس کے درمیان ’اعتماد میں اضافے‘ کے بغیر ’یوکرین بحران سمیت دیگر مسائل کو حل کرنا ناممکن ہوگا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس نے ’کبھی بھی یورپی دنیا سے روابط رکھنے سے انکار نہیں کیا، کبھی یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے عمل سے بھی گریزاں نہیں رہے۔‘
روسی صدر نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر ہونے والی گفتگو کا ذکر بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں فون پر بتایا تھا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے یوکرین کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے گا۔
خیال رہے سعودی عرب میں یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے پہلے مرحلے میں کئیو کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا جس کے بعد امریکی انتظامیہ پر تنقید بھی ہوئی تھی۔
صدر پوتن کا ان مذاکرات پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہنا تھا کہ: ’امریکہ کی پوزیشن یہی ہے کہ مذاکراتی عمل میں روس اور یوکرین بھی شامل ہوں گے۔‘
’کوئی بھی یوکرین کو اس عمل سے الگ نہیں کر رہا۔‘