معدنیات نہیں دے سکتے،میں اپنی ریاست کو فروخت نہیں کر سکتا،یوکرینی صدر

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت روس کی جانب سے ’بہت غلط معلومات‘ پھیلائی جا رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ’غلط معلومات کی دنیا‘ میں رہ رہے ہیں۔

صدر زیلینسکی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ 2019 میں پانچ برس کے لیے منتخب ہونے والے یوکرینی صدر کی ’اپروول ریٹنگ چار فیصد تک گر چکی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی انھیں بطور یوکرین کے سربراہ ہٹانا بھی چاہے تب بھی ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ابھی بھی ان کی اپروول ریٹنگ زیادہ ہے۔

انھوں نے یہاں ایک سروے کا بھی حوالہ دیا جس کے مطابق 58 فیصد یوکرینی عوام اب بھی ان پر اعتماد کرتے ہیں۔

نیوز کانفرنس کے دوران صدر زیلینسکی سے امریکی صدر کی ایک تجویز سے متعلق بھی سوال کیا گیا جس کے مطابق امریکہ کو روسی معدنیات بشمول لیتھیم اور ٹائٹینیم کا 50 فیصد حصہ ملے گا۔

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر زیلینسکی نے کہا کہ وہ یہ تجویز مسترد کر چکے ہیں کیونکہ اس کے مطابق امریکہ کو یوکرینی معدنیات کا 50 فیصد حصہ ملے گا اور اس تجویز میں یوکرین کی سکیورٹی کی بھی ضمانت نہیں دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں یوکرین کی حفاظت کر رہا ہوں، میں اسے فروخت نہیں کر سکتا، میں اپنی ریاست کو فروخت نہیں کر سکتا۔‘

دوسری جانب یوکرین کی پارلیمنٹ کے سپیکر رسلان سٹیفنشوک نے ملک میں صدارتی انتخابات کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

اپنی ایک فیس بُک پوسٹ میں رسلان کا کہنا تھا کہ ’یوکرین کو بُلٹس (گولیوں) کی ضرورت ہے، بیلٹ پیپرز کی نہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ: ’شیلنگ کے دوران جمہوریت کو دوبارہ ایجاد کرنے کی کوشش جمہوریت نہیں کہلاتی۔ یہ رچا گیا ایک ڈرامہ ہے جس کا فائدہ اٹھانے والا کریملن میں بیٹھا ہے۔‘

ولادیمیر زیلینسکی کی جماعت سے تعلق رکھنے والے سپیکر کا یوکرینی صدر کو پیغام دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’آپ کو میری پوری حمایت حاصل ہے۔‘

خیال رہے یوکرینی قانون کے تحت جنگی حالات میں ملک میں انتخابات کروانا ممنوع ہے۔

واضع رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ یوکرینی صدر کی اپنے ملک میں مقبولیت کم ہوتی جا رہی ہے اور ان کی ’اپروول ریٹنگ صرف چار فیصد ہے۔‘

یہ بات واضح نہیں کہ امریکی صدر کے دعوے کے پیچھے کیا ذریعہ ہے ۔

یوکرین چونکہ ابھی حالتِ جنگ میں ہے اس لیے وہاں کوئی مستند سروے کرنا مشکل ہے۔ تاہم رواں مہینے کئیو انٹرنیشنل انسٹٹیوٹ آف سوشیالوجی کی جانب سے کیے گئے سروے میں معلوم ہوا تھا کہ 57 فیصد یوکرینی عوام اب بھی صدر زیلینسکی پر اعتماد کرتے ہیں۔

تاہم اس میں کوئی شک کی بات نہیں کہ یوکرینی صدر کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ مئی 2022 میں ملک میں صدر زیلینسکی کی مقبولیت 90 فیصد تھی جو کہ سنہ 2023 کے اختتام پر کم ہو کر 77 فیصد رہ گئی تھی۔

اب یہ مقبولیت 77 فیصد سے کم ہو کر 57 فیصد پر آ گئی ہے۔

دیگر سرویز کے مطابق مقبولیت کے اعتبار سے صدر زیلینسکی متوقع طور پر اپنے مخالف امیدوار سابق آرمی چیف ولیری زلوجنی سے تھوڑا پیچھے ہی ہیں۔

Share This Article