بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں زامران اور نوشکی میں پاکستانی فوج و پولیس پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے زامران اور نوشکی میں قابض پاکستانی فورسز اور پولیس کو دو مختلف حملوں میں نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ بی ایل ایف کے اسناپئر ٹیکٹکل ٹیم نے 18 فروری کی شام چار بجے کیچ کے علاقے زامران جونکی تنک میں قائم قابض پاکستانی فورسز کی چوکی کے باہر کھڑے اہلکار کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد قابض فورسز نے اندھا دھند شدید فائرنگ کی تاہم سرمچار بحفاظت اپنے محفوظ مقام پر منتقل ہوگئے۔
بیان میں کہا گیا کہ دوسری کارروائی 16 فروری شام سات بجے ہمارے سرمچاروں نے نوشکی پولیس تھانے کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔یہ حملہ تنبیہ کے طور پر پولیس تھانے کے مرکزی دروازے پر کیا گیا اور جان بوجھ کر جانی نقصان سے گریز کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس حملے کے توسط سے نوشکی پولیس کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ قابض فورسز کے دفاع سے گریز کرے۔
ترجمان نے کہا کہ بی ایل ایف ان دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور قابض فوج کی مکمل انخلاء تک اپنے حملے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔