یوکرین : روسی ڈرون کاجوہری پلانٹ کی تابکاری سے بچاؤ کی حفاظتی شیلڈ پر حملہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ایک روسی ڈرون حملے میں چرنوبل جوہری بجلی گھر کے تباہ شدہ ری ایکٹر کے اوپر تابکاری سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے حصے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ رات گئے ہونے والے اس ڈرون حملے کی وجہ سے پلانٹ کے تباہ شدہ چوتھے ری ایکٹر کے اوپر تابکاری سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے حصے کو شدید نقصان پہنچا۔ اس حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس پر بعد میں قابو پا لیا گیا۔

تاہم روس کی جانب سے یوکرین میں اس ڈرون حملے سے متعلق تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ جمعے کی صبح تک پلانٹ میں تابکاری کی سطح میں اضافہ نہیں ہوا تھا۔

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی اہلکاروں اور گاڑیوں نے رات میں حونے والے اس حملے کے چند ہی منٹوں کے اندر اپنی کارروائیاں شروع کر دی تھی۔ ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حملے میں کسی بھی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

دنیا بھر میں جوہری تحفظ پر نظر رکھنے والے ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ چرنوبل کے اندر اور باہر حالات معمول کے مطابق ہیں۔

زیلنسکی نے ایکس پر فوٹیج پوسٹ کی جس میں کنکریٹ اور سٹیل سے بنی دیوہیکل ڈھال کو نقصان پہنچتا دکھایا گیا ہے۔

یوکرین میں یہ وہ مقام ہے جہاں سنہ 1986 میں جوہری تباہی آئی تھی۔

ایک حادثے کے نتیجے میں اس جوہری پلانٹ سے ریڈیو ایکٹو یعنی تابکار شعاعيں نکل پڑیں تھیں جو یورپ کے بعض علاقوں کی فضا میں پھیل گئی تھیں اور جس کی وجہ سے تھائرائڈ کینسر میں اضافہ دیکھا گیا۔

اس واقعے کے بعد پلانٹ کے ارد گرد ایک ہزار مربع میل پر پھیلے وسیع علاقے کو الگ تھلگ کر دیا گیا تھا اور اب یہ ایک ممنوعہ علاقہ ہے جہاں کوئی نہیں رہتا۔

اُس وقت یوکرین کی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس علاقے میں موجود جوہری تابکاری کی وجہ سے لوگ آئندہ 24 ہزار سال تک اس علاقے میں آباد نہیں ہو سکیں گے۔

Share This Article