بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی ، بلیدہ اور تونسہ شریف سے 3 افرادجبری گمشدگی کا شکار ہوگئے جبکہ حب سے پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری طور پرلاپتہ نوجوان نوروز اسلام بلوچ بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیاہے۔
ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں بگٹی کالونی سے فورسز اہلکاروں نے شمس بگٹی نامی ایک شخص کو ان کے والد جعفر بگٹی سمیت جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
عینی شاہدین کے مطابق فورسز کا ایک ویگو ڈالہ مذکورہ افراد کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اٹھا کر لے گئے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ بعدازاں جعفر بگٹی کو چھوڑ دیا گیا تاہم شمس بگٹی تاحال لاپتہ ہے۔
کہا جارہا کہ شمس بگٹی سوئی کے علاقے اوچ میں او جی ڈی سی ایل میں ملازم ہے۔
اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں سلو سے نامعلوم مسلح افراد نے عبد القیوم ولد حبیب نامی ایک ناجوان کو جبری طور پر اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
واقعہ جمعہ کی رات کے تقریباً 9 بجے کے وقت پیش آیا۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ دو موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے اسلحہ کے زور پر سلو کے رہائشی نوجوان عبدالقیوم کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جو کہ تاحال ان کی کوئی خبر نہیں۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ مسلح افراد نے زبردستی نوجوان کے ہاتھ باندھ کر ان کی آنکھوں پر پٹی باندھااور پھر اپنے ساتھ لے گئے۔
دوسری جانب تونسہ شریف کے رہائشی سرفراز احمد ولد اللہ بخش نے کہا ہے کہ ان کا کزن محمد شیراز ولد محمد نواز تونسہ شریف مرتضی ٹاؤن ہفتے کو دن 12 بجے دوائی لینے کے لیے بازار گیا ابھی تک واپس گھر نہیں آیا جن کی گمشدگی کے متعلق ہمیں تشویش ہے۔
جبکہ ادھر حب سے لاپتہ نوروز اسلام بلوچ بازیاب ہوکرگھر پہنچ گیا ہے۔
نوروز اسلام کو حب میں ان کے گھر سے جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ چند دن پہلے ان کی فیملی نے دیگر لاپتہ فیملیز کے ساتھ دھرنا دیا تھا، حب انتظامیہ نے 20 دن کی مہلت مانگی تھی۔