عالمی فوجداری عدالت کا ٹرمپ کاحکم ماننے سے انکار، کام جاری رکھنے کا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ، آئی سی سی نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنے عملے پر پابندیاں عائد کرنے کے حکمنامے پر دستخط کے بعد بھی اپنا کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ادارے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے عملے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور یہ حکمنامہ اس کے غیر جانبدارانہ اور آزادانہ کام کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے ذریعے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ناجائز اور بے بنیاد اقدامات کا الزام لگاتے ہوئے ادارے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

یہ اقدام ان افراد پر مالی اور ویزا پابندیاں عائد کرتا ہے جو امریکی شہریوں یا امریکی اتحادیوں اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں آئی سی سی کو تحقیقات میں مدد کرتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم نامے پر اس وقت دستخط کیے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو واشنگٹن میں کانگریس کے اراکین سے ملاقات کر رہے تھے۔

دونوں کی ملاقات منگل کو وائٹ ہاؤس میں ہوئی۔

گذشتہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی جرائم کے الزام میں بینجمن نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جس کی اسرائیل نے مذمت کی تھی۔ عدالت نے حماس کے ایک سینئر کمانڈر کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کو وائٹ ہاؤس نے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت پر الزام لگایا تھا کہ حماس اور اسرائیل کے لیے بیک وقت یہ سزائیں جاری کرتے ہوئے آئی سی سی نے اخلاقی گرواٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔

ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کے حالیہ اقدامات نے ’ایک خطرناک مثال قائم کی ہے‘ جس نے امریکیوں کو ’ہراساں کرنے، بدسلوکی اور ممکنہ گرفتاری کا خطرہ‘ پیدا ہوا ہے۔

Share This Article