بلوچستان کے علاقے خاران میں دو بھائیوں کی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کیخلاف لواحقین نے احتجاجاًریڈ زون میں دھرنادیدیا ہے۔
مبارک سیاپاد ولد میر احمد کو گذشتہ روز خاران میں ایک دکان سے جبکہ اس کے چھوٹے بھائی حافظ علی میر احمد کوکوئٹہ سے فورسز نے حراست میں لیکر جبری لاپتہ کیا تھا۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ حافظ علی میراحمد اپنے مریض ماں کو علاج کے غرض سے کوئٹہ لے گیا تھا اور ہوٹل میں رہائش پذیر تھا۔
سنگرنیوز ڈیسک کو لنے والی اطلاعات کے مطابق دونوں بھائیوں کی بازیابی کے لیے خاران ریڈ زون میں لواحقین کا دھرنا جاری ہے۔
اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی خاران زون کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے گزشتہ روز مبارک بلوچ ولد میر احمد کو اسکے دکان سے لاپتہ کیا اور کل رات اسکے چھوٹے بھائی حافظ علی میر کو خفیہ ادروں کے اہلکاروں نے کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا ہے جسکے خلاف دونوں بھائیوں کی بازیابی کے لیے خاران ریڈ زون میں دھرنا جاری ہے۔
لواحقین نے دونوں بھائیوں کی بازیابی کیلئے خاران کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں ہمارے خاندان کے ساتھ کھڑے ہوں۔