فوج اور عوام میں خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے،عمران خان کی آرمی چیف کو خط

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو لکھے گئے ’کھلے خط‘ میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ’اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام اور فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور فوج کی بدنامی کو کم کیا جا سکے۔‘

پیر کو تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں کو بتایا تھا کہ عمران خان نے آرمی چیف کو خط لکھا ہے۔ اس خط کی تفصیلات رات گئے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق اس اکاؤنٹ پر جاری کردہ پیغامات جیل میں قید سابق وزیر اعظم کی ہدایت پر ہی جاری کیے جاتے ہیں۔

اس خط میں عمران خان کا کہنا ہے کہ ’دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو لیکن افسوسناک امر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔‘

آرمی چیف سے بطور سابق وزیر اعظم مخاطب ہو کر عمران خان نے کہا ہے کہ ’میرا کام اس قوم کی بہتری کے لیے ان مسائل کی نشاندہی ہے جس کی وجہ سے فوج مسلسل بدنامی کا شکار ہو رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان کی خلیج کم ہو۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ ’اس بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے: فوج کا اپنی آئینی حدود میں واپس جانا، سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی معین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا، اور یہ کام فوج کو خود کرنا ہو گا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصلاح میں فالٹ لائنز بن جائیں گی۔‘

سوشل میڈیا پر شیئر کردہ خط کی تفصیلات میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ فروری 2024 کے عام انتخابات کے دوران ’جس انداز میں ایجنسیاں پری پول دھاندلی اور نتائج کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی انجینئرنگ میں ملوث رہیں اس نے قوم کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔‘

یاد رہے کہ پاکستانی فوج نے بارہا یہ بیان دیا ہے کہ اس کی جانب سے ملکی سیاست میں مداخلت نہیں کی جاتی۔ فوج اور موجودہ حکومت کی جانب سے متعدد بار تحریک انصاف کے الزامات کی تردید کی جا چکی ہے۔

دریں اثنا عمران خان نے اپنے خط میں 26ویں آئینی ترمیم، پیکا قانون، تحریک انصاف کے رہنماؤں و کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن، معاشی عدم استحکام اور سیاسی انتقام کا ذکر کیا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میجر، کرنل سطح کے افراد کی جانب سے عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پوری فوج پر نزلہ گر رہا ہے۔‘

Share This Article