چین کی وزارت تجارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تمام چینی مصنوعات پر 10 فیصد محصولات عائد کرنے پر ردِ عمل دیتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
چین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘چین اس سے سخت عدم اطمینان کا شکار ہے اور اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، یہ عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے قوانین کی ‘سنگین خلاف ورزی’ ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ ‘اس طرح کے اقدامات چین اور امریکہ کے درمیان معمول کے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے لیے نقصان دہ ہیں۔’
چین نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف ڈبلیو ٹی او میں اس کے ‘غلط عمل’ کے لیے مقدمہ دائر کرے گا اور ‘اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ’ کے لیے جوابی اقدامات کرے گا۔
چین کا کہنا ہے کہ ‘چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی غلط سوچ کو درست کرے اور اس مسئلے کا سامنا کرنے کے لیے چینی فریق کے ساتھ مل کر کام کرے، کھل کر بات چیت کرے، تعاون کو مضبوط بنائے اور مساوات، باہمی فائدے اور باہمی احترام کی بنیاد پر اختلافات کو حل کرے۔’
یاد رہے کہ امریکی صدر نے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد اور چین سے درآمدات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لاگو کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان محصولات کو ‘غیر قانونی غیر ملکیوں اور مہلک منشیات کے بڑے خطرے کی وجہ سے نافذ کیا ہے، جس میں فینٹانل بھی شامل ہے’۔
واشنگٹن میں چینی سفارتخانے نے امریکہ کی نئی ٹیرف پالیسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس ٹیرف کے خلاف ہے اور چین اب اپنے جائز دفاع کے حق اور مفادات کے تحفظ کے لیے اس اقدام کا جواب دے گا۔
چین کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تجاتی اور ٹیرف کی جنگ میں کسی کی فتح نہیں ہوتی۔‘
ترجمان کے مطابق ان اقدامات سے امریکہ کے اندرونی مسائل حل نہیں ہو سکتے اور سب سے اہم بات یہ کہ اس طرح کے اقدامات سے کسی بھی فریق کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور یہ دنیا کے لیے خسارے کا سودا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے سنیچر کو یہ وضاحت دیتے ہوئے کہ آخر کیوں وہ اپنے اہم تجارتی اتحادیوں کو ہدف بنا رہا ہے کہا ہے کہ یہ سب چین، میکسیکو اور کینیڈا کو ڈرگ ٹریفکنگ خاص طور پر فینٹینل اور غیرقانونی امیگریشن جیسے معاملات میں ’قابل احتساب‘ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
اس الزام کے جواب میں چینی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کو اپنے فینٹیل منشیات والے مسائل کو بہتر انداز میں خود حل کرنا ہو گا بجائے دوسرے ممالک کو دھمکانے اور ان پر مزید حریفانہ ٹیرف عائد کرنے کے اس کا بدلہ لیا جائے۔
ترجمان کے مطابق چین غیرقانونی منشیات کے خلاف بہت سخت اقدامات اٹھاتا آیا ہے اور جہاں تک بات فینٹینل کی ہے تو یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا امریکہ کو سامنا ہے۔