اسرائیل وحماس مابین جنگی بندی معاہدے کے تحت مزید چار اسرائیلی خواتین فوجیوں کے بدلے 200 فلسطینی قیدی رہا کردیئے گئے۔
گزشتہ ہفتے غزہ میں یرغمالیوں کی حوالگی کے برعکس آج کی اسرائیلی یرغمالیوں کی حوالگی بہت مختلف دکھائی دے رہی تھی۔
آج چار اسرائیلی خواتین یرغمالیوں کو حماس کی جانب سے اپنی گاڑیوں سے نکل کر نقاب پوش مسلح افراد کی محاصرے میں خاص طور پر بنائے گئے سٹیج پر پہنچایا گیا۔ جہاں چند لمحے قبل ریڈ کراس کے ایک اہلکار نے حماس کے ایک جنگجو کے ساتھ ایک بڑے اجتماع کے سامنے دستاویزات پر دستخط کیے تھے۔
آج ہونے والی اس تقریب میں اسرائیلی یرغمالیوں کو لیمینیٹڈ شناختی کارڈز پہنائے گئے تھے اور ان کے ساتھ حماس کے نقاب پوش مسلح افراد بھی موجود تھے۔
سٹیج پر جہاں ان اسرائیلی یرغمالیوں کو لایا گیا تھا وہاں چند کرسیاں اور ایک میز کے علاوہ ایک مشین گن بھی تھی۔
حماس کے سیکڑوں جنگجو اور فلسطینی شہری ان رہائی پانے والی چار اسرائیلی خواتین فوجیوں کو دیکھ رہے تھے۔ چاروں اسرائیلی خواتین نے ان لوگوں کی جانب دیکھ کر ہاتھ ہلایا بلکہ وہ مسکراتی نظر آئیں۔
حماس کی جانب سے رہائی پانے والی خاتون اسرائیلی فوجیوں کو چند دستاویزات اور سامان کا ایک بیگ بھی اپنے ہمراہ لے کر جانے کے لیے دیا۔

اسرائیلیوں کے لیے یہ ایک خوشی کا لمحہ تھا اور اسی کے ساتھ ساتھ بڑی راحت کی بات بھی کہ مزید چار یرغمالی محفوظ ہیں اور اپنے وطن واپس پہنچ چُک ہیں۔ گزشتہ ہفتے بہت سے لوگوں کی جانب سے اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا تھا کہ رہائی پانے والی پہلی تین اسرائیلی خواتین کو غیر رسمی طور پر چھوڑ دیا گیا تھا۔
تاہم آج انتہائی متضاد مناظر سامنے آئے۔
چار اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد حماس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے بہادر قیدیوں کا ایک اور گروپ‘ جن میں سے کئی اسرائیل میں عمر قید یا طویل سزائیں کاٹ چکے ہیں آج آزاد ہو کر دن کی روشنی دیکھیں گے۔‘
واضح رہے کہ جنگ بندی کے تحت ابتدائی چھ ہفتوں کے مرحلے میں فلسطینی قیدیوں کے بدلے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت ہر اسرائیلی فوجی کے بدلے 50 فلسطینی قیدی اور ہر ایک عام اسرائیلی شہری کے بدلے 30 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی جیل سروس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنیچر کے روز رہا ہونے والے تمام 200 فلسطینی قیدیوں کو واپس مغربی کنارے پہنچا دیا گیا ہے۔
خبر رساں اداروں اے ایف پی اور روئٹرز کی جانب بتایا گیا ہے کہ ’اسرائیلی سیاسی حکام کی منظوری کے بعد تمام فلسطینیوں کو اوفر اور کٹیوٹ جیلوں سے رہا کر دیا گیا۔‘
ان میں سے تقریباً آدھے قیدیوں کو مغربی کنارے میں اپنے گھروں کی جانب واپس جانے کی اجازت دی گئی۔
انتہائی سنگین جرائم میں سزا پانے والے 70 قیدیوں کو مصر کے راستے قطر اور ترکی جیسے ہمسایہ ممالک میں جلاوطن کیا جائے گا اور باقی رہ جانے والے چند کو غزہ بھیجا جائے گا۔
رواں ہفتے اسرائیل کی قید سے رہا ہونے والے فلسطینیوں میں سے 121 عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔
رہا ہونے والے قیدی جب اپنے اہل خانہ سے ملے تو جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔