بلوچ نسل کشی یادگاری دن کی مناسبت سے کل بروز ہفتہ کو بلوچستان کے علاقے دالبندین میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی منعقدہ عظیم الشان قومی جلسہ عام میں شرکت کیلئے بلوچستان بھر سے لوگ ریاستی رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔
ان افراد میں میں بلوچ جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین اور بلوچ شہداء کے لواحقین بھی شامل ہیں۔ جبکہ گذشتہ سال گوادر میں منعقدہ بلوچ راجی مچی میں ریاستی کریک ڈائون میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افرادکے فیملی بھی شرکت کر رہے ہیں۔
اس سلسلے میں بی وائی سی کے سربراہ جو خود اس وقت دالبندین میں موجود ہیں نے بلوچ قوم کے نام سے جاری کردہ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ دالبندین میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہو رہے ہیں، جن میں بلوچ جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین اور بلوچ شہداء کے لواحقین بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دالبندین سمیت پورے ضلع چاغی کے بہادر اور مہمان نواز عوام اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں ان سے اپیل کرتی ہوں کہ اپنے گھروں کے دروازے زیادہ سے زیادہ تعداد میں مہمانوں کے لیے کھولیں اور اپنے مہمانوں کا خدمت کریں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ نے خاران اور نوشکی کے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ راستے میں آنے والے قافلوں کو دالبندین پہنچنے میں رہنمائی فراہم کریں، اور انہیں کھانے اور پانی کی سہولت مہیا کریں۔
انہو ں نے کہا کہ میں ریاست پر یہ بھی واضح کرنا چاہتی ہوں کہ نیٹ ورک بند کرنے اور کسی بھی قسم کے کریک ڈاؤن سے ہم کمزور نہیں ہوں گے، بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور حوصلہ مند بنیں گے۔ ریاست کی ان حرکتوں سے نہ ہم پہلے کمزور ہوئے تھے اور نہ آئندہ ہوں گے۔
واضع رہے کہ ضلع چاغی اور صدر مقام دالبندین میں ریاست کی جاب سے گذشتہ 2 دنوں سے موبائل نیٹ ورک بند کر دیئے گئے ہیں اور فورسز کی بڑی تعداد بھی شہر میں تعینات کردی گئی ہے ۔جبکہ بلوچستان بھر سے آنے والے قافلوں کو شہر میں داخل ہونے سے روکا جارہا ہے اور انہیں ہراساں کرنے کی شکایتیں بھی موصول ہوئی ہیں۔
جبکہ دالبندین شہر ضلع چاغی میں ریاستی فورسز نے گھر گھر پمفلٹ تقسیم کرکے لوگوں کو دھمکایا جارہا ہے کہ وہ جلسہ میں شرکت کرنے سے گریز کریں لیکن اس کے برعکس اطلاعات ہیں کہ مقامی لوگ بی وائی سی کی کال پر اپنے گھروں کے دروازے باہر سے جلسے میں شرکت کرنے کیلئے آنے والے لوگوں کیلئے کھول رہے ہیں۔
دالبندین قومی اجتماع کا آغاز کل صبح 11 بجے ہوگا۔