کراچی پولیس نے عوامی دباؤ کے پیش نظر سمی بلوچ سمیت بی وائی سی کے گرفتار خواتین کو رہا کر دیا ہے جبکہ مرد افراد تاحال زیرحراست ہیں۔
سوشول میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بی وائی سی رہنما سمی دین بلوچ نے کھارادر پولیس اسٹیشن میں ایک تصویر شیئر کردی ہے جس میں وہ وکلا ودیگر ساتھیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
سمی بلوچ نے اپنے پوسٹ میں لکھا کہ مجھے ایک ایسے تھانے میں رکھا گیا جہاں خواتین پولیس اہلکار موجود نہیں تھیں۔
انہو ں نے کہا کہ تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کے بعد پولیس نے عوامی دباؤ کے پیش نظر ہم خواتین کو رہا کر دیا ہے، لیکن مرد ساتھی تاحال حراست میں ہیں۔
سمی بلوچ نے لکھا کہ سندھ حکومت کی یہ کارروائی شرمناک ہے۔ کراچی میں ہمارے پرامن مظاہروں پر ہر بار کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے، ساتھیوں پر تشدد اور گرفتاریاں کی جاتی ہیں۔ سندھ حکومت واضح کرے کہ ہمارے پرامن احتجاجوں سے کیا مسئلہ ہے؟
انہوں نے کہا کہ آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے 25 جنوری کو دالبندین میں منعقد ہونے والے جلسے کی آگاہی مہم کے سلسلے میں لیاری کے علاقے آٹھ چوک میں دوپہر 2 بجے ریلی کا انعقاد کیا جانا تھا۔ تاہم، ریلی کے آغاز سے قبل ہی کراچی پولیس نے مظاہرین پر دھاوا بول دیا اور تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے متعدد ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔
سمی بلوچ نے مزید لکھا کہ مظاہرین کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے پر پولیس نے خواتین اور بچوں سمیت تمام مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا، جس سے کئی افراد زخمی ہوئے۔ تمام مردوں اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد مختلف تھانوں میں منتقل کیا گیا، جن میں آمنہ بلوچ، فوزیہ بلوچ، لالا وہاب بلوچ سمیت تقریباً 30 افراد شامل تھے۔