بلوچ نسل کشی کیخلاف 25 جنوری کو دالبندین میں منعقدہ اجتماع کیلئے گذشتہ روزجمعرات کوبلوچستان کے صنعتی شہر حب میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ایک آگاہی ریلی نکالی گئی ۔
ریلی میں مردو نوجوان سمیت خواتین وبچوں کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔
آگاہی ریلی سے بی وائی سی کے مرکزی رہنما سمی دین بلوچ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ وہ 25 جنوری کو دالبندین میں "بلوچ نسل کشی یادگاری دن” کے موقع پر ہونے والے بلوچ قومی اجتماع میں فعال کردار ادا کریں اور دل و جان سے شرکت کریں۔
ریلی میں ایک مسلح شخص کو پستول اور گولہ بارود سے لیس رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔
بی وائی سی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پکڑے گئے مسلح شخص، پستول اور اس کے ساتھیوں کی تصاویر بھی جاری کردیئے ہیں ۔
تصاویر میں مذکورہ شخص کے پاس فرنٹیئر کور( ایف سی) کاکارڈاوردیگر تصاویر بھی دیھکے گئے ہیں جس میں وہ ایف سی کی وردی میں ہے۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ وہ ریاستی اہلکارہے ،پتہ چلتا ہے کہ اس نے ٹارگٹ گولی کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنی سازش کو انجام دیتا اسے پکڑ لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ریاست کی جانب سے قانونی اجتماعات کو سبوتاژ کرنے اور بلوچوں کے حقوق کی وکالت کرنے والوں کو دھمکانے کے لیے کیے جانے والے انتہائی اقدامات کی نشاندہی کرتا ہے۔
بی وائی سی نے کہا کہ ان اشتعال انگیزیوں کے باوجود بلوچ یکجہتی کمیٹی پرعزم ہے۔ قومی اجتماع کے لیے بیداری کی مہم کئی علاقوں میں جاری ہیں، جس سے قومی اتحاد اور اجتماعی سلامتی کے لیے مشترکہ عزم کو تقویت ملتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایک اور آگاہی ریلی اور انفارمیشن ڈیسک کل مورخہ 18 جنوری 2025 کو میرا ناکہ، لیاری میں منعقد کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں سمی بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فام ایکس پر مذکورہ واقعہ کی تفصیلات و تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ نسل کشی کے خلاف آنے والے احتجاج کے حوالے سے حب میں ایک آگاہی مہم کے دوران، شرکاء نے ایک مشتبہ شخص کی نشاندہی کی ۔وہ شخص زبردستی ہم سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے ہمارے ساتھیوں نے ان کو روکنے کے لیے مداخلت کی، جس پر فرد نے ہتھیار دکھائے۔ مزید معائنے پر، وہ بندوقیں اور گولہ بارود رکھتے ہوئے پائے گئے، جو ہماری حفاظت کے لیے ایک سنگین اور فوری خطرہ تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد میں، دو اور افراد پکڑے گئے ان کے فونز کے جائزے سے مہم کے شرکاء کی تصاویر اور ویڈیوز کا انکشاف ہوا، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ وہ شرکاء کی پروفائلنگ کر رہے تھے۔ ان افراد کے ریاستی اداروں کے ساتھ روابط پائے گئے جو کہ ہماری نگرانی اور دھمکانے کی ایک مربوط کوشش کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو ان واقعات کی اطلاع دینے کی ہماری کوششوں کے باوجود، ہمیں کوئی مدد یا تحفظ نہیں ملا۔ پولیس کا یہ رویہ ہماری حفاظت کو یقینی بنانے میں ریاست کی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے۔
سمی بلوچ نے مزید کہا کہ اگر ہمیں کچھ ہوتا ہے تو ہم اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے لیے پوری طرح سے ریاست کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ہم قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیتے ہیں کہ وہ مداخلت کریں اور ہماری حفاظت کی ضمانت دیں۔ یہ انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اختلاف رائے کو خاموش کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کا غیر سنجیدہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ہماری سلامتی کے بارے میں بے فکر ہیں۔ تاہم، ہمیں دھمکانے کی ایسی کوششیں غیر انسانی مظالم کے خلاف ہماری لڑائی کو روک نہیں سکتیں۔ انصاف اور وقار کے لیے ہماری جدوجہد بلا روک ٹوک جاری رہے گی۔