کوہلو و تربت سے 5 افراد جبری طور پر لاپتہ،زہری و مند سے 2 لاشیں برآمد

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے کوہلو اور تربت سے 5 افراد کی جبری گمشدگی اطلاعات ہیں جبکہ زہری اور مند سے 2 لاشیں برآمدہوئی ہیں۔

بلوچستان کے ضلع کوہلو سے پاکستانی فورسز نے 4 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

اطلاعات کے مطابق فورسز نے بالاچ لوہانی کو اپنے کیمپ بلاکر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

علاقائی ذرائع کے مطابق بالاچ لوہانی کے دو بیٹوں کو دو مہینے قبل فورسز نے جبری لاپتہ کردیا تھا۔

فورسز حکام نے بالاچ لوہانی کو بیٹوں کی بازیابی کے حوالے سے کیمپ بلاکر ان کو بھی لاپتہ کردیا۔

مزید برآں تین روز قبل یار خان جلمبانی کو ان کے گھر سے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جبکہ تین روز قبل کوڈے ولد میشدار لوہارانی اور جمعہ شاہیجو کو راستے سے حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

گذشتہ دنوں خضدار کے تحصیل زہری سے 12، ڈیرہ بگٹی سے 9، خاران سے 2 اور نوشکی سے 2 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

جبری گمشدگیوں کیخلاف سوراب کے مقام سی پیک روٹ پر دو روز تک احتجاجی دھرنا دیا گیا جبکہ تربت میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب تربت کے علاقے آپسر میں گذشتہ شام گھر سے نکلنے والے نوجوان واپس نہیں لوٹا جس سے اہل خانہ میں شدید تشویش نے جنم لیا ہے۔

فیملی ذرائع کے مطابق محمد ایوب ولد ماسٹر مراد بخش جو آپسر کا رہائشی ہے کل مغرب کے وقت گھر سے بازار کے لیے نکلا تھا تاہم وہ واپس گھر نہیں لوٹے ہیں۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ہمیں ان کی اچانک گمشدگی پر سخت تشویش ہے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود انہوں نے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

علاوہ ازیں ضلع خضدار کے علاقے زہری او رضلع کیچ کے علاقے مند سے 2 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق زہری مشک بازار روڈ پر کشمی نامعلوم شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے جسے گولی مار کر قتل کردیا گیا ہے۔

دوسری خانب ضلع کیچ کے علاقے مند کھنک سے اطلاعات ہیں کہ کل رات تین بجے نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر محمد ولد رضائی کو اغواء کرلیا جسکی آج صبح لاش برآمد ہوئی ہے۔

تاہم دونوں واقعات کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔

Share This Article