پاکستان کے پنجاب یونیورسٹی نے اپنے جاری کردہ امتحانی نتائج میں بلوچ طلبا رہنما اور سرگرم و متحرک انسانی حقوق کارکن سعدیہ بلوچ کولاپتہ قراردیدیاہے۔
سعدیہ بلوچ جو پنجاب یونیورسٹی لاہور میں زیر تعلیم ہیں اور قانون کی طالبہ ہیں کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی 28 جولائی کو گوادر میں منعقدہ بلوچ راجی مچی میں شرکت کرنے کی پاداش میں ریاستی انتقامی کارروائی کا نشانہ بناکر معطل کیا گیاتھا۔
جس پر سعدیہ بلوچ کا کہنا تھا کہ 11 جون 2024 کو کوئی درست چارج شیٹ فراہم کیے بغیر "شرپسند طالب علم” جیسے بدنیتی پر مبنی الزامات لگا کر، ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے مجھے ادارے سے معطل کر دیا گیا تھا ۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی معطلی کے نوٹیفکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے پر عدالت نے مجھے امتحانات میں شرکت کے لیے نہ صرف عبوری ریلیف فراہم کیابلکہ میرے تعلیمی کیریئر کو نقصان نہ پہنچانے کا بھی حکم دیا۔لیکن آج میرا رزلٹ تھا مگر میرے نام کے رزلٹ کے آگے لاپتہ لکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات اور یونیورسٹی کی اپنی ڈسپلنری کمیٹی کے ساتھ میرے مسلسل تعاون کے باوجود ادارہ آج تک مجھے الزامات کی تحریری دستاویز فراہم نہیں کر سکا۔
سعدیہ بلوچ کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کے بدنیتی پر مبنی رویے اور تاخیری حربے صرف میرے تعلیمی کرئیر اور ذہنی سکون کو خراب کرنے کے لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح بلوچ طلباء کو ریاستی حکام غیر قانونی طور پر حراست میں لیتی ہے، اسی طرح پاکستان کے تعلیمی ادارے بھی بلوچوں کے تعلیمی کیریئر کو نظر بند کرنے کے لیے آمرانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال 28 جولائی کو گوادر میں منعقدہ بلوچ راجی مچی میں شرکت کیلئے سعدیہ بلوچ ڈیرہ غازی خان سے درجنوں افراد کے ساتھ قافلے کی صورت میں نکلی تھی لیکن وہ ریاست کی جانب سے راجی مچی کیخلاف کریک ڈائون میں مستونگ سے آگے نہ جاسکے اور ادھر ہی قافلے کی قیادت کرتے رہے۔
راجی مچی میں شرکت کی پاداش میں سعدیہ بلوچ کو ریاستی فورسز کی جانب سے دھمکایاگیا ، فیملی کو ہراس کیا گیا جس سے فیملی کواپنا گھر چھوڑ کر دوسرے جگہے پر منتقل ہونا پڑا۔