ایرانی حکام نے حراست میں لی گئی ایک سرکردہ خاتون سماجی کارکن سپیدہ قولیان کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے معافی نہ مانگنے پر جیل میں ڈال دیا ہے۔
حکام نے سپید قولیان سے کہا تھا کہ وہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے تحریر طور پرسزا کی معافی کی درخواست کریں تاہم قولیان نے خامنہ ای سے رحم کی بھیک مانگنے کے بجائے جیل جانے کو ترجیح دی۔
خیال رہے کہ پچیس سالہ سپیدہ قولیان کو شمالی اھواز میں سنہ2018ءمیں خواتین کے حقوق کے لیے ایک احتجاجی ریلی میں حصہ لینے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ اسے پانچ سال قید سزا سنائی گئی ہے۔ جیل بھیجے جانے سے قبل قولیان کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔
واضع رہے کہ ایران میں سیکولر نظریات رکھنے والے افراد جن میں شاعر و ادیب ، دانشور، انسانی حقوق وسماجی کارکن، وکلا وڈاکٹرزو دیگر شعبو ں سے وابستہ ہیں ،حکومت کی جانب سے انہیں مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔