خاران سے پاکستانی فورسز ہاتھوں 2 نوجوان جبراً لاپتہ ، تربت سے ایک بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے خاران سے پاکستانی فورسز نے 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جبکہ تربت سے ایک لاپتہ نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔

خاران سے اطلاعات میں گزشتہ شام مغرب کے وقت فورسز نے کلی سراوان کے دو نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

جبری لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی شناخت عاصم قمبرانی ولد محمد یعقوب قمبرانی اور بلاول قمبرانی ولد محمد اقبال قمبرانی کے ناموں سے ہوگئی۔

دونوں نوجوانوں کا تعلق خاران کے دیہات سراوان سے ہےاور وہ 13 اور 14 سال کے عمر کے بتائے جاتے ہیں۔

لاپتہ کئے جانے والے دونوں نوجوانوں کے بارے میں جارہا ہے کہ وہ اس وقت کوئٹہ میں زیر تعلیم ہیں اور چھٹیاں منانے میں اپنے علاقے آئے ہوئے تھے۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ شام وہ دونوں شہر سے کلی سراوان کی جانب جارہے تھے کہ پاکستانی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں نے ان کو حراست میں لیکرنامعلوم مقام پر منتقل کیا۔

دریں اثنا ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے آبسر سے جبری گمشدگی کے شکارفاروق ولد اسحاق بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔

بی وائی سی کیچ نے فاروق اسحاق کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دوسرے بھائی تاحال بازیاب نہیں ہوسکے۔

واضع رہے کہ فاروق اسحا ق اور شیرجان اسحاق کو فورسز نے 7 جنوری کی صبح پانچ بجے آپسر بنڈے بازار میں ان کے گھرمیں چھاپہ مار کر دونوں بھائیوں گرفتار کرکے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا جبکہ ان کا شمس اسحاق نامی ایک اور بھائی پہلے سے فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ ہے۔

Share This Article