تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی غیر منصفانہ ہے ،بی ایس او

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگانے پر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں اس پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا جو فیصلہ صادر کیا ہے، وہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ بلوچستان کے پہلے سے محدود جمہوری ماحول کو مزید گھٹن زدہ کرنے کی کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان، جہاں شہری آزادیوں کی پامالی معمول بن چکی ہے، وہاں عدالتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی حفاظت اور آزادانہ اظہارِ رائے کے فروغ میں معاونت کریں۔ مگر اس کے برعکس، عدالت نے اپنی بنیادی ذمہ داری سے انحراف کرتے ہوئے ریاستی جبر کے لیے ایک قانونی جواز فراہم کیا ہے۔دنیا کے معتبر تعلیمی ادارے طلباء کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ مستقبل کے لیے بہتر قیادت تشکیل دے سکیں۔ تاہم بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں پر قدغنیں نہ صرف جمہوری روایات کے خلاف ہیں بلکہ طلبا کی فکری و تخلیقی نشوونما کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان جیسے پسماندہ خطے میں سیاست طلباء کے لیے واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے حقوق کے تحفظ اور سماجی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کرسکتے ہیں۔ طلباء تنظیمیں ہمیشہ سیاسی قیادت کی نرسری کے طور پر کام کرتی آئی ہیں، اور ان پر پابندی سے نہ صرف تعلیمی ماحول متاثر ہوگا بلکہ تعلیمی اداروں میں بدعنوانی اور غیر شفافیت کے دروازے بھی کھل جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن عدالت کے اس یکطرفہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بلوچستان کے طلباء کی آزادی اور حقوق پر براہِ راست حملہ تصور کرتی ہے یہ فرمان بلوچستان کے طلباء کے مشکلات میں مزید اضافہ کریگا، وہ طلباء جو پہلے ہی جبری لاپتہ ہونے، مسلسل ہراسانی اور پروفائلنگ جیسے جبر کا سامنا کر رہے ہیں یہ فیصلہ ان کے خلاف جاری مظالم کو جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے اس سے نہ صرف وہ اپنے جمہوری حقوق سے محروم ہونگے بلکہ ان کے تعلیمی مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونگے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن مطالبہ کرتی ہیں کہ عدالت عالیہ اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور تعلیمی اداروں میں آزادیِ اظہار اور طلباء کی سیاسی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ ہم تمام طلبا تنظیموں، سماجی کارکنان، اور باشعور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن طلباء کے تعلیمی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے اور ایسے کسی بھی اقدام کے خلاف مشترکہ سیاسی مزاحمت کے لیے تیار ہے۔

واضع رہے کہ بلوچستان حکومت نے سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ کی تمام سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

یہ فیصلہ بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر کیا گیا، جس میں طلبہ کی سیاسی سرگرمیوں کو قوم کے مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا تھا۔

کالج، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ پابندی آئینی درخواست نمبر 1973/202 کے فیصلے کے تحت نافذ کی گئی ہے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی حدود میں کسی قسم کی سیاسی سرگرمی یا اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی اور یہ پابندی آئندہ حکم تک نافذ العمل رہے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article