تھران | مانیٹرنگ ڈیسک:
ایران کے صدر، ڈاکٹر مسعود پزشکیان، نے عراقی وزیرِ اعظم محمد شیعہ السوڈانی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ شام میں استحکام، امن، شام کی ارضی سالمیت کو برقرار رکھنا، اور دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سدباب دونوں ممالک کی مشترکہ تشویش کا حصہ ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا ہمیں امید ہے کہ اس ملاقات کے نتیجے میں ایران اور عراق کے درمیان اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہوگی، دوطرفہ تعاون کو فروغ ملے گا، اور دونوں ممالک کے اتحاد کو تقویت دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے عراق کو ایران کا اہم پڑوسی اور اسٹریٹجک پارٹنر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اعلیٰ سطح پر جاری ہیں اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ڈاکٹر پزشکیان نے مزید کہا اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ اپنے خطے میں امن، استحکام، اور ترقی کا خواہاں رہا ہے۔ عراقی عوام کی سلامتی اور ترقی ہمارے لیے بے حد اہم ہے، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے بعد عراق اب ایک نئے ترقیاتی دور سے گزر رہا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ یہ ملاقات ان کے گزشتہ ستمبر میں عراق کے کامیاب دورے کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی وزیرِ اعظم السوڈانی کے ساتھ خطے کی تازہ ترین صورتحال اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
انہوں نے شام کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام میں امن و استحکام، صیہونی قابضین کی پسپائی، اور مذہبی جذبات، خاص طور پر مقدس مقامات کی حفاظت، دونوں ممالک کے لیے مشترکہ خدشات ہیں۔
ڈاکٹر پزشکیان نے دہشت گرد سیلوں کے دوبارہ فعال ہونے کے امکان کو ایران اور عراق کے لیے ایک اہم خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تشویش دونوں ممالک کے درمیان چوکسی اور تعاون کو مزید ضروری بناتی ہے۔
اقتصادی تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے، انہوں نے شلمچہ-بصرہ ریلوے منصوبے پر تیزی سے عمل درآمد اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ آج کی ملاقات میں موجودہ رکاوٹوں کو دور کرنے، کسٹمز کے شعبے میں تعلقات کو فروغ دینے، مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں، نقل و حمل میں سہولت، اور سرحدی منڈیوں کو مضبوط کرنے جیسے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آخر میں، ڈاکٹر پزشکیان نے کہا ایران اپنے پڑوسی ممالک، بالخصوص عراق کے ساتھ تعلقات کی ترقی کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیح سمجھتا ہے۔ ہم عراقی عوام کی سلامتی، ترقی، اور فلاح و بہبود کو اپنے مفادات کا حصہ سمجھتے ہیں اور اس سمت میں کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔