شــــیردل باپ کا شیـــر دل فرزند, میـــجــر نــورا – تحریر انجیرو بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

سرزمین بلوچستان کے کوکھ سے جنم لینے والے بے شمار بھادر ، دلیر اور وطن پر قربان ھونے والےv فرزندوں کی کہانیاں ہر خاص و عام کی زبان سے ہمیں سننے کو ملیں گے لیکن ان میں سے بہت ایسے کہانیاں ھیں جو ھم نے اس نہ رُکنے والے جدوجھد میں خود سُنے اور دیکھے ھیں ان میں سے ایک انمول ھیرا شھید میجر نورا جان ھے. جو اپنے کم.عمری میں دشمن کے ساتھ لڑنے کیلئے کمر بستہ رھے.


وہ اپنے جنگی مھارت پختہ تربیت اور بے شمار صلاحتیوں کی وجہ سے مکمل دور اندیشی کے ساتھ انھوں نے جدوجھد کو آگے لیجانے کیلئے ھر مشکل وقت اور حالات کا سامنا کیا


جب بھی پروم میں فوج داخل ھوا تو اسکا ٹارگٹ شھید پیرک جان کا گاؤں تھا. لوٹ کھسوٹ گھروں کو جلانا بزرگوں، بچوں پر تشدد یہ سب کرنے کے باوجود دشمن اس نوجوان کےپختہ سوچ اور فکر کے سامنے بے بس رھا.
زمانہ طالب علمی میں دشمن شھید نورا کو لاھور اور اسلام آباد میں رھنے کیلئے بہت کوشش کرتا رھا تاکہ اسی لالچ میں شھید پیرک اپنے سرزمین کے محبت اور آزادی کے سوچ سے دستبردار ھوجائے. لیکن شھید نے دشمن کے ان چالوں کو کبھی کامیاب ھونے نہیں دیا.
پھر دشمن نے تشدد والا پالیسی آزمانا شروع کیا ہر روز اس کے یونیورسٹی میں آئی ایس آئی نے انھیں دھمکانا شروع کیا اور آخر کار انھیں اٹھالیا لیکن اس مرد آھن ان سب کے خوف سے نکل کر اپنے عظیم مقصد کی جانب گامزن ھوکر بلوچ مسلح تنظیم کا حصہ بن گیا اپنے علاقے سے لیکر بلوچستان کے ھر علاقے میں پارٹی کیلئے بہت سے مشھور جنگیں لڑیں
ان کے بہت سے جنگوں نے دشمن کا کمر توڑ ڈالا شھید کو علاقے میں بہت سے قریبی لوگ پہچانتے تک نہیں تھے کیونکہ وہ ھروقت محاز پر موجودتھے شھید پیرک سے متاثر ھوکر بہت سے نوجوان جنگ کا حصہ بن گئے. علاقے کے بیشتر تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے وہ ایک آئیڈل تھے
اس کے منظم فکر اور فلسفے نے انھیں عظیم سے عظیم تر رُتبے پہ فائز کردیا
اس کی شھادت نے ہر کسی کو جنجھوڑ کے رکھ دیا لیکن ھر کسی کا سر فخر سے اونچا کیا
شھید پیرک جان اپنے کرداروں اور مخلص سرمچار ھونے کے بدولت اپنے والد صاحب اور والدہ امّاں مھناز کے جزبوں کو بھی آسمان تک پہنچاتے تھے اسی لئے ان حالات میں شھید کے گھر والے ان کے اور پارٹی کے شانہ بشانہ رہے
شھید پیرک جان کے والد علاقے میں جب بھی کسی دوست یا پارٹی کارکن سے ملتے اس نے ھمیشہ یہی کہا کہ مشکل حالات کا سامنا کرنا سیکھو اور دشمن کے مکاریوں سے ھمہ وقت آگاہ رھو
جب بھی شھید پیرک جان گھر سے باہر ہوتا تھا تو اس شیر دل باپ نے کبھی انھیں محاز سے آنے کا نھیں کہا. چاہے کسی عید کا یا کسی شادی کا موقع ھوتا تو ھم لوگ واجہ شیر دل سے بس یہی سُنتے کہ ان سب خوشیوں سے پیرک جان کا کام ضروری اور لازمی ھے
جس طرح شھید اپنے آخری پیغام میں صرف اور صرف بلوچوں کو یک مُشت ھونے کی اپیل کرتے ہیں بالکل اسی طرح اس کے گھر والوں کا فکر و فلسفہ یہی ہے
اگر مجھ جیسے بزدل آدمی کو بخار ھوجائے تو ھم دو کمبل اوڑھ کے گھر میں کسی کو بات کرنے نھیں دیتے لیکن دوسری طرف شھید پیرک جان اپنے ساتھیوں کے لاشوں کے سامنے اور دوسری طرف دشمن کے گولیوں اور گولوں کے درمیان سے بس یہی کہتا کہ جنگ کو آگے لیجانے کیلئے ھر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کرو
یہی ہیں سرزمین کے سچے عاشق اور بھادر سپاھی جو آخری وقت تک دشمن کو بھاگنے پر مجبور کردیتا ہے. یہی ھمت اور حوصلہ اگر ھم اپنالیں تو وہ دن دور نھیں کہ ھم لوگ شھید پیرک جان اور ساتھیوں کے آرزووں کو پورا کریں گےاور ان کے اس عظیم قربانی کا صلہ ہم ایک آزاد بلوچستان کی صورت میں پائیں گے

Share This Article
Leave a Comment