زمان و عبدالحسن پر الزامات بے بنیاد ہیں، دھرنا جاری رہے گا،لواحقین کا ردعمل

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں کے شکار زمان جان اور عبدالحسن کی قلعہ عبداللہ میں گرفتاری ظاہر کرنے اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم سے جوڑنے پرلواحقین نے ان الزامات کوبے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ڈیتھ اسکواڈ کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آر مکمل طور پر غیر مصدقہ ہے۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ ہم، زمان جان اور عبدالحسن کے اہل خانہ، ان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی واضح طور پر تردید کرتے ہیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ڈیتھ اسکواڈ کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آر مکمل طور پر غیر مصدقہ ہے۔

انکے لواحقین نے اپنے بیان میں کہا سچ تو یہ ہے کہ زمان جان ولد سِپاحان اور عبدالحسن ولد رحمت کو ڈسٹرکٹ کیچ کونسل کے چیئرمین اوتمان نے 16 دسمبر 2024 کو طلب کیا جس کے بعد چیئرمین اوتمان نے انہیں ریاستی اداروں کے حوالے کر دیا۔ اور ان پر لگائے گئے افغانستان سے پاکستان اسلحہ سمگل کرنے کے الزامات سراسر جھوٹ اور من گھڑت ہیں۔

ہم پرامن شہریوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کی مذمت کرتے ہیں اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارے خاندان نے شروع سے ہی ظلم برداشت کیا ہے، پھر بھی ہم پرامن رہتے ہیں اور پرامن رہتے ہوئے اپنے حق کے لیے لڑتے ہیں۔ ہم بوگس الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ہوشاپ میں اپنا دھرنا اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک الزامات کو مسترد نہیں کیا جاتا۔

ہمارے مطالبات میں شامل ہیں:
1- ایف آئی آر درج کروانا: ضلع کیچ کونسل کے چیئرمین میر اوتمان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف زمان جان اور عبدالحسن کی جبری گمشدگی میں کردار ادا کرنے پر ایف آئی آر درج کی جائے۔
2۔ اجتماعی سزا کا خاتمہ: ہم اپنے خاندان پر دی جانے والی اجتماعی سزا کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق اور وقار کی صریح خلاف ورزی کرتی ہے۔
3۔ ہراساں کرنے کا خاتمہ: ہم اپنے خاندان کے افراد کے خلاف کی جانے والی نفسیاتی اور جسمانی ہراسانی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ناقابل تلافی نقصان اور تکلیف ہوئی ہے۔
4۔ حفاظت کی یقین دہانی: ہم اس یقین دہانی کا مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے خاندان کے افراد کو ڈیتھ اسکواڈز یا ریاستی اداروں کی طرف سے ہراساں، اور دھمکیوں کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا، اس طرح ان کے زندگی اور تحفظ کے حق کو یقینی بنایا جائے گا۔
5- تحقیقات اور احتساب: اپنے پیاروں کی گمشدگی سے متعلق حالات کی مکمل تحقیقات، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
6- انصاف اور شفافیت: ہم اس معاملے میں انصاف اور شفافیت کے خواہاں ہیں، حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے مطالبات کو حل کرنے کے لیے فوری کارروائی کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم اپنا احتجاجی دھرنا ہوشاب کے مقام پر جاری رکھیں گے ،بصورت دیگر ہم اپنے احتجاجی طریقہ کار کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سارے حالات کے ذمہ دار حکومت بلوچستان ہوگی۔

Share This Article